تجر بہ کے بعد
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۹
طور پر میں اس حیرت ناک واقفیت تک پہنچی کہ جس شخصیت کو میں برسوں سے تلاش کر رہی تھی وہ میری اپنی ناک کے نیچے موجود ہے، یعنی میں خود۔ یہ ہے وہ کام جو میرے جیسی تیز عورت اپنے گھر کے اندر کر رہی ہے :
مذہب کی تعلیم کے تحت معاشرت کا یہ اصول مقرر کیا گیا تھا کہ مرد کمائے اور عورت گھر کی دیکھ بھال کرے ۔ اس طرح تقسیم کار کے اصول پر دونوں زندگی کا کاروبار چلائیں۔ یہ ایک انتظامی بندوبست تھا نہ کہ کسی کو بڑا درجہ اور کسی کو چھوٹا درجہ دینا۔ مگر جدید دور میں " آزادی نسوں " کی تحریک اٹھی جس نے اس طریقہ کو عورت کی تصغیر کے ہم معنی قرار دیا۔ اور یہ نعرہ دیا کہ دونوں صنفوں کو کسی تقسیم یا حد بندی کے بغیر ہر کام کرنا چاہیے۔ یہ نظریہ اتنا پھیلا کہ عورتوں کی ایک پوری نسل گھر سے باہر نکل پڑی۔
نام نہاد مساوات کے اس تجر پر اب تقریباً سوا سال بیت چکا ہے۔ خاص طور پر مغربی دنیا میں اس کا تجربہ بہ آخری ممکن حد تک کیا گیا ہے۔ مگر ان تجربات نے اس کی افادیت ثابت کرنے کے بجائے صرف اس کا نقصان ثابت کیا ہے۔ موجودہ مغربی معاشرہ میں مختلف انداز سے مسلسل اس کی مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔ انھیں میں سے ایک مثال وہ ہے جس کو اوپر نقل کیا گیا ۔ مذہب نے مرد اور عورت کے عمل کے درمیان یہ تقسیم رکھی تھی کہ مرد معاش فراہم کرے، اور عورت نئی نسل کی اخلاقی تعمیر کرے :
‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues