دین کے بدلے دنیا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۰
دین کے بدلے دنیا
ڈیڑھ ہزار برس پہلے ساری دنیا میں شرک کا غلبہ تھا۔ حتیٰ کہ توحید کے گھر ، کعبہ کو بھی بت خانہ بنا دیا گیا تھا۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں "تحفظ کعبہ" کی مہم شروع کی۔ مگر مکہ کے لوگوں نے آپ کو حقیر بنا دیا۔ یہاں تک کہ آپ کو ہلاک کرنے کے درپے ہو گئے۔ چنانچہ تقریباً ۱۳ سال کی پُر مشقت جد و جہد کے بعد آپ کو مکہ چھوڑ کر ۳۰۰ میل دور مدینہ جانا پڑا۔ مگر آج یہ حال ہے کہ کعبہ تو درکنار کوئی شخص عام مساجد کے نام پر بھی اگر " تحفظ مسجد کی تحریک شروع کرتا ہے تو اس کے چاروں طرف انسانوں کی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے۔ اس کے اوپر روپیہ کی بارش ہونے لگتی ہے۔ وہ صبح و شام میں عزت و لیڈری کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔
مکی دور میں اہل مکہ مسلمانوں کو ستاتے تھے۔ چنانچہ مسلمانوں کی ایک تعداد عرب سے نکل کر حبش چلی گئی ۔ یہ سب کے سب اصحاب رسول تھے۔ مگر حبش میں نہ ان عربوں کا استقبال ہوا ، نہ وہاں ان کے لیے عظیم الشان کانفرنسیں کی گئیں۔ وہ کچھ عرصہ تک وہاں محنت مزدوری کرتے رہے۔ اور اس کے بعد غیر اہم آدمی کی حیثیت سے دوبارہ اپنے وطن واپس آگئے ۔ مگر آج یہ حال ہے کہ اسی عرب کا کوئی شیخ جب ہندوستان یا کسی اور ملک میں جاتا ہے تو مسلمانوں کے تمام اصاغر و اکابر ان کے استقبال کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔ ان کے اعزاز میں ایڈریس پیش کیے جاتے ہیں۔ اور عظیم الشان کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں ۔
لبید قدیم عرب کے ایک مشہور شاعر تھے۔ مکی دور میں انھوں نے قرآن کو سنا۔ اس کو سن کر انھوں نے اسلام قبول کر لیا اور شاعری چھوڑ دی۔ کسی نے پوچھا کہ تم نے شاعری کیوں چھوڑ دی۔ انھوں نے جواب دیا : أبعَدَ القران۔ (کیا قرآن کے بعد بھی) لبید کے اس عمل پر قدیم عرب میں انھیں کوئی اعزاز نہیں ملا۔ لیکن آج اگر کوئی مشہور شاعر ایسا کرے کہ وہ شہر کے چوراہے پر کھڑا ہو کر اپنے کلام کو جلا دے اور کہے کہ میں نے قرآن کو پڑھا تو مجھے اپنی شاعری پھیکی معلوم ہونے لگی۔ اب میں شاعری کو چھوڑ کر قرآن کو اختیار کرتا ہوں تو ایسے شاعر کی ہر طرف دھوم مچ جائے گی۔ وہ صبح و شام میں عظمت اور مقبولیت کے آسمان پر پہنچ جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues