Al-Risala · December 1988 · page 11

دین کے بدلے دنیا

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۱

قدیم زمانہ اور موجودہ زمانہ میں یہ فرق کیوں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں اسلام اجنبی تھا۔ آج اسلام ایک معروف اور غالب دین بن چکا ہے۔ قدیم زمانہ میں صرف چند بے سروسامان لوگ اسلام کے ساتھ تھے ۔ آج ساری دنیا میں ایک ارب انسان اسلام کے ساتھ ہیں۔ دولت اور اقتدار کے تمام اسباب اس کی پشت پر جمع ہیں۔ یہی وہ فرق ہے جس نے دو دوروں میں مذکورہ بالا قسم کا فرق پیدا کر دیا ہے ۔

یہ معاملہ ہر دین کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اس سے پہلے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوا ۔ اور اب مسلمانوں کے ساتھ یہی صورت پیش آ رہی ہے ۔

ابتدائی دور میں خدا کی کتاب اور خدا کے دین کے ساتھ دنیوی اہمیت کی چیزیں جمع نہیں ہوتیں ۔ اس بنا پر کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ کتاب خداوندی یا دین خداوندی کے نام پر دھوم مچاسکے۔ مگر لمبی مدت گزر جانے کے بعد خدا کی کتاب اور خدا کے دین کے اندر دنیوی اور قلیاوتی قدریں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اب یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ خدا کے دین کو اسی طرح قیادت یا تجارتی سودا بنایا جا سکے جس طرح کوئی شخص غیر دینی اور غیر خدائی چیزوں کو بناتا ہے ۔

یہ ایک زبردست فتنه ہے جو ہمیشہ بعد کے دور میں پیدا ہوتا ہے ۔ اور یہی وہ فتنہ ہے جس سے قرآن میں ان الفاظ میں منع کیا گیا ہے کہ اللہ کی آیتوں کے بدلے ثمن قلیل نہ لو : ولا تشتروا باياتي ثمناً قليلاً اور میری آیتوں پر تھوڑا مول نہ لو، دینی دین کے نام (البقره (۴۱) پر دنیا نہ کماؤ قرآن میں اس مضمون کی کئی آیتیں ہیں جن میں اللہ کے کلام کے بدلے ثمن قلیل لینے کو منع کیا گیا ہے۔ اس سے مراد عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں استغلال یا استحصال (Exploitation) کہا جاتا ہے ۔ یعنی اسلام کو اپنی قیادت کا عنوان بنانا ۔ قرآن اور اسلام کا نام لینا اور اس کے ذریعے سے دنیا کا ساز و سامان حاصل کرنا ۔

موجودہ زمانہ میں یہ فتنہ بہت بڑے پیمانے پر پیدا ہو گیا ہے ۔ لوگ اسلام کے چیمپین بن کر عزت ، دولت ، قیادت کا ڈھیر اپنے گرد جمع کر رہے ہیں ۔ مگر قیامت میں جب پردہ ہٹے گا تو معلوم ہوگا کہ اسلام کے یہ چیمپین صرف اسلام کے سوداگر (Exploiter) تھے ، اس کے سوا اور کچھ نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues

Printed page