توہین رسول
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۸
اور مکہ والے بھی ۔
موجودہ زمانہ میں بھی مسلمانوں کے سامنے اس قسم کے معاملات پیش آرہے ہیں۔ غیر مسلم طبقہ کی طرف سے بعض اوقات ایسے مطالبے کیے جاتے ہیں جو مذکورہ بالا مطالبات کے مشابہ ہیں۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ اپنی سنت کی زبان میں مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں کہ میں تمہارے لیے خدائی نمونہ ہوں۔ تم وہی کرو جو میں نے کیا۔ مگر مسلمان ہر بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کہنے کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ وہ جھوٹے لیڈروں کے کہنے پر چل رہے ہیں نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر۔
جب بھی مذکورہ نوعیت کا کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو نام نہاد لیڈر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ دیکھو، ذرا بھی نرم نہ پڑنا۔ اگر تم نرم پڑے تو اغیار اور زیادہ کڑے ہو جائیں گے۔ دیکھو، ذرا بھی ان لوگوں کے ساتھ رعایت نہ کرنا۔ اگر تم نے رعایت کا معاملہ کیا تو وہ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے اور تمہارے ساتھ مزید سختی کا معاملہ کریں گے۔ ایسے مواقع پر مسلمان اپنے رسول کی سنت کو چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے لیڈروں کے کہے کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔
یہ بلاشبہ سب سے بڑی توہینِ رسول ہے۔ جب ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے پکار رہے ہوں، اور دوسری طرف جھوٹے لیڈر اپنی جھوٹی آوازیں لگا رہے ہوں، ایسی حالت میں خدا کے رسول کی شان میں اس سے بڑی گستاخی اور کیا ہو سکتی ہے کہ مسلمان خدا کے رسول کی پکار کو نظر انداز کر دیں اور لیڈروں کی پکار کی طرف دوڑ پڑیں ۔
یہ توہین رسول کا سب سے زیادہ بڑا واقعہ ہے جو آج خدا کی زمین پر پیش آرہا ہے۔ اور اس توہین رسول کا ارتکاب کرنے والے وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو توہینِ رسول سے روکنے کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں۔
مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ موجودہ حالت میں ان کا یہ فعل غفلت پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ اور جو لوگ غفلت پر سرکشی کا اضافہ کریں وہ اللہ کے نزدیک صرف اپنے جرم کو بڑھاتے ہیں، وہ کسی درجہ میں بھی اس کو کم نہیں کرتے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues