Al-Risala · December 1988 · page 19

علمی مغالطے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۹

علمی مغالطے

موجودہ زمانہ میں جن مغربی محققین نے مذہب کا علمی مطالعہ کیا، انھوں نے عام طور پر یہ خیال قائم کر لیا کہ مذہب پہلے شرک کی صورت میں پیدا ہوا، اس کے بعد توحید کا عقیدہ آیا۔ اس مفروضہ کا سبب تاریخ کے بارہ میں ارتقائی تصور تھا۔ اپنے ارتقائی ذہن کے تحت انھوں نے سوچا کہ مذہب نے ارتقاء کے انداز میں سفر کیا ہوگا۔ پھر اس ، ہوگا " کو " ہے " مان کر انھوں نے کہہ دیا کہ مذہب کا سفر ارتقائی انداز میں ہوا ہے۔ کائناتی مظاہر میں تعدد کو دیکھ کر ابتدائی انسان نے سمجھ لیا کہ خدائی میں بھی تعدد ہے۔ پھر جب علم بڑھا تو تعدد نے توحید کی صورت اختیار کرلی۔

مگر بعد کی زیادہ گہری تحقیقات نے اس نظریہ کی غلطی واضح کر دی۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) کے مقالہ نگار نے توحید (Monotheism) کے زیر عنوان لکھا ہے کہ یہ فرض کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں کہ مذہب کی تاریخ میں کئی خداؤں کا تصور پہلے آیا اور ایک خدا کا تصور بعد کو پیدا ہوا۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی تاریخی مواد موجود نہیں ہے کہ ایک نظام عقائد دوسرے نظام عقائد کے مقابلہ میں زیادہ پرانا ہے ، اگر چہ بہت سے اہل علم یہ مانتے ہیں کہ توحید مذہب کی اعلیٰ صورت ہے اور اس لیے بعد کو ظہور میں آئی ، یہ فرض کرتے ہوئے کہ جو اعلیٰ ہے اسے بعد کو آنا چاہیے : There is no valid reason to assume that monotheism is a later deve- lopment in the history of religions than polytheism. There exists no historical material to prove that one system of belief is older than the other, although many scholars hold that monotheism is a higher form of religion and, therefore, must be a later development, assuming that what is higher came later (12/381). صحیح یہ ہے کہ توحید مذہب کی اصلی صورت ہے اور شرک مذہب کی بگڑی ہوئی صورت ۔ لیکن مغربی علماء نے اپنے ارتقائی مفروضہ کے تحت یہ سمجھ لیا کہ شرک مذہب کی ابتدائی صورت ہے، اور توحید اس کی تکمیلی صورت۔ اس غلط مفروضہ کی بنا پر ان کا پورا نظریہ مذہب غلط ہو گیا۔ توحید کو اصل اور شرک کو بگاڑ سمجھیے تو مذہب کی ایک شکل بنتی ہے، اور اگر توحید کو تکمیل اور شرک کو آغاز سمجھیے تو اس سے بالکل مختلف دوسری شکل۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues

Printed page