Al-Risala · December 1988 · page 28

But what about the verses themselves?

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۸

جائے اور وہ اپنے دفاع میں دوسرے شخص پر حملہ کرے تو یہ قانونی اعتبار سے اس کے لیے جرم نہیں ہوگا :

Nothing is an offence which is done in the exercise of the right of اب اگر کوئی شخص ان دفعات کو لے کر یہ کہنے لگے کہ ہندوستان کا قانون ہر آدمی کو کھلی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کے خلاف جس کو پائے اس کو مارنا شروع کر دے ۔ تو ایسا شخص یقیناً غلطی کرے گا۔ کیوں کہ وہ خصوصی حکم کو عمومی حکم بنا رہا ہے ۔ وہ دفاع کے حکم سے آزادی مذہب کا حکم نکال رہا ہے۔

ہندوستان کا قانون مذہبی آزادی کے معاملہ میں کیا ہے ، اس کو پینل کوڈ (قانون فوجداری) سے اخذ نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے لیے دستور ہند کی وہ دفعہ دیکھنی ہوگی جو بنیادی حقوق (Fundamental rights) سے تعلق رکھتی ہے ۔ اس کو دیکھنے سے معلوم ہو گا کہ ہندوستان کے قانون نے مذہب کے معاملہ میں ہر آدمی کو پوری آزادی عطا کی ہے ۔ اس کے مطابق ، نہ کسی سے اپنی پسند کا عقیدہ رکھنے کا حق چھینا جا سکتا اور نہ اس معاملہ میں اس کو مجبور کیا جاسکتا ۔ مسٹر ان شوری نے یہی غلطی قرآن کو سمجھنے میں کی ہے۔ وہ قانون دفاع اور قانون مذہب کو ایک دوسرے میں گڈ مڈ کر رہے ہیں ۔ انھوں نے قرآن سے "قتال" کی جو آیتیں نقل کی ہیں وہ سب دفاع کے مسئلہ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ یعنی یہ کہ جارحیت کے وقت مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ۔ جہاں تک اس دوسرے سوال کا تعلق ہے کہ مذہب کی آزادی کے بارے میں قرآن کا نقطہ نظر کیا ہے، اس سلسلہ میں مسٹر ان شوری کو چاہیے کہ وہ قرآن کی ان آیتوں کا مطالعہ کریں جو خاص طور پر اس دوسرے مسئلہ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ مثلاً :

۱۔ دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔ پس جو شخص طاغوت (شیطان) کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے ، تو اس نے مضبوط حلقہ کو پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں ، اور اللہ سننے والا ، جاننے والا ہے (البقرہ ۲۵۶)

۲۔ پس تم لوگوں کو نصیحت کرو، تم صرف نصیحت کرنے والے ہو۔ تم ان کے اوپر دارو غہ نہیں ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues

Printed page