Al-Risala · December 1988 · page 27

But what about the verses themselves?

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۷

مدینہ میں ایک خاتون تھیں جن کا نام زینب بنت جحش تھا۔ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پھو پھی زاد بہن تھیں، اور قریش کے اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ۳ھ میں ان کے یہاں زید بن حارثہ کے لیے نکاح کا پیغام دیا جو ایک آزاد کردہ غلام تھے۔ یہ بظاہر ایک نابرابری کا رشتہ تھا۔ چنانچہ زینب بنت جحش اور ان کے گھر والوں نے اس کو نامنظور کر دیا، خود زینب نے کہا کہ میں زید سے نسب میں بہتر ہوں (انا خیر منہ حسباً)

زینب اور ان کے گھر والے سب کے سب مسلمان تھے۔ انھوں نے حسب نسب کے فرق کی بنیاد پر اس رشتہ کو ماننے سے انکار کیا تھا جو قرآنی اسکیم کے سراسر خلاف تھا۔ اس وقت قرآن میں یہ آیت اتری۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسلام کی شریعت خدا کے احکام پر مبنی ہے نہ کہ قومی اور خاندانی رواج پر۔ اگر تم واقعی اللہ اور رسول کے مومن ہو تو تمہیں وہی کرنا چاہیے جس کا حکم خدائی شریعت میں دیا گیا ہے۔ روایات بتاتی ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی زینب اور ان کے گھر والوں نے خاندانی نخوت کو ترک کر دیا اور خدا کے حکم کے مطابق زید بن حارثہ سے نکاح پر راضی ہو گئے (فامتنعت ثم اجابت) اصل پس منظر کے اعتبار سے دیکھیے تو مذکورہ آیت ایک عظیم سماجی انقلاب کا عنوان ہے جب کہ تاریخ میں پہلی بار مصنوعی اونچ نیچ کو ختم کرکے حقیقی انسانی مساوات کو قائم کیا گیا۔ قرآن کی یہ آیت نہ صرف مومنین قرآن کے لیے بلکہ تمام قوموں کے لیے فخر کی آیت ہے۔ یہ آیت اس دن کو یاد دلاتی ہے جب کہ ہزاروں سال سے جکڑی ہوئی انسانیت کو جھوٹے بندھنوں سے آزادی حاصل ہوئی اور تاریخ میں وہ نیا عمل شروع ہوا جو موجودہ زمانہ میں مساوات انسانی کے عمومی اعتراف کے مرحلہ تک پہنچا۔ آدمی کے اندر اگر اعتراف کا حوصلہ ہو اور اس کو دیکھنے والی آنکھ حاصل ہو تو وہ اس آیت میں سچی انسانیت کی روشنی دیکھے گا، مگر جو لوگ بصیرت سے محروم ہوں، ان کے لیے تو اجالا بھی ویسا ہی تاریک ہے جیسا کہ اندھیرا:

گر نہ بیند بروز شب پرہ چشم چشمۂ آفتاب را چہ گناہ ایک مثال انڈین پینل کوڈ کی دفعہ ۹۶ سے لے کر دفعہ ۱۰۶ تک ذاتی دفاع کے بارے میں ہیں۔ اس کی دفعہ ۹۶ آدمی کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اپنے دفاع (بچاؤ) میں لڑے۔ اگر کسی شخص پر جارحیت کی

‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues

Printed page