Al-Risala · December 1988 · page 30

ایک تبصرہ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۰

ایک تبصرہ

مسٹر دلپ ہیرو مسلم دنیا کے معاملات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے اس موضوع پر کئی کتابیں لکھی ہیں ۔ ان کی ایک کتاب ۱۹۸۸ میں لندن سے چھپی ہے، اس کا نام اسلامی بنیاد پرستی ہے : Dilip Hiro, Islamic Fundamentalism اس کتاب میں جو باتیں کہی گئی ہیں ، ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے اسلامی بنیاد پرستوں کو شکست اور اس سے بھی زیادہ بری چیز ذلت ، دونوں سے سخت طور پر دوچار ہونا پڑا۔ ان کا معاملہ صرف اتنا نہیں ہے کہ وہ اپنے پیغمبر محمد کی طرف لوٹ رہے ہیں اور اپنے مذہب کی بنیادی تعلیمات کو متعین کرکے اس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کی موجودہ سرگرمی شدید طور پر مغرب کے خلاف رد عمل اور ہر اس چیز سے نفرت کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے جس کا تعلق مغرب سے ہو : موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان اٹھنے والی وہ تحریکیں جن کو مغربی پریس اسلامی فنڈ منٹلزم کہتا ہے، اور خود مسلمان جس کو صحوۃ اسلامیہ (اسلامی بیداری) کہنا پسند کرتے ہیں، ان کی اصل حقیقت یہی ہے کہ وہ رد عمل اور نفرت کے طور پر اٹھتی ہیں۔ وہ قومی تحریکیں ہیں نہ کہ اسلامی تحریکیں ۔ اسلامی تحریک محبت اقوام کی زمین پر ابھرتی ہے۔ جب کہ یہ تحریکیں نفرت اقوام کی زمین پر ابھری ہیں۔ آپ ان تحریکوں کا کوئی پرچہ پڑھیں، یا ان کے کسی اجتماع میں شریک ہوں ۔ آپ کو ان میں دوسروں کے لیے خیر خواہی اور شفقت کی خوشبو نہیں ملے گی۔ اس کے برعکس آپ پائیں گے کہ وہ شکایت اور احتجاج جیسی باتوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ یہی واقعہ مذکورہ بیان کی تصدیق کے لیے کافی ہے ۔ بظاہر یہ تبصرہ بہت تلخ ہے، لیکن اگر خالی الذہن ہو کر دیکھا جائے تو وہ عین درست نظر آئے گا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues

Printed page