مصنوعی کامیابی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۱
مصنوعی کامیابی
ستمبر ۱۹۸۸ میں ۲۴ واں اولمپک سیول (کوریا) میں ہوا۔ اس موقع پر ۲۴ ستمبر کو سومیٹر کی دوڑا کا مقابلہ ہوا۔ اس مقابلہ میں کناڈا کے 26 سالہ بن جانسن (Ben Johnson) نے سو میٹر کا فاصلہ تقریباً دس سیکنڈ میں طے کر کے دوڑ کا جو کمال دکھایا وہ ناقابل یقین حد تک شاندار تھا۔ ٹی وی پر دوڑ کا منظر دیکھنے والے ایک شخص نے کہا کہ وہ اس طرح دوڑ جیسے کوئی سا نڈ دوڑتا ہے:
He ran like a bull
بن جانسن مقابلہ جیت کر عالمی چیمپئن بن گیا۔ اس نے صرف اپنے ۲۴ ستمبر کے حریفوں کو نہیں ہرایا تھا بلکہ دوڑ کے عالمی ریکارڈ کو توڑ کر دنیا کا سب سے زیادہ تیز رفتار انسان (Fastest man on earth) بن گیا تھا۔ اس نے چیخ کر کہا کہ میں دنیا کا نمبر ایک شخص ہوں (I am the world no. 1) اس کی فاتحانہ تصویریں اگلے دن تمام دنیا کے اخباروں کی زینت بنی ہوئی تھیں۔ گولڈ میڈل اور ایک ملین ڈالر سے زیادہ بڑی چیز وہ تھی جو اس کو عالمی شہرت کی صورت میں اچانک حاصل ہو گئی۔ ٹائمس آف انڈیا ۲۵ ستمبر ۱۹۸۸)
مگر بن جانسن کی خوشی دیر تک باقی نہ رہی۔ قاعدہ کے مطابق کھیل کے فورا بعد اس کا پیشاب لیا گیا جو مخصوص ماہرین کے پاس سائنسی تجزیہ کے لئے بھیج دیا گیا ۔ 26 ستمبر کو اس جانچ کی رپورٹ آئی تو معلوم ہوا کہ بن جانسن کی کامیابی کا راز مصنوعی دواؤں کا استعمال تھا۔ کھیل کے عالمی مقابلوں میں ، کھیل کے وقت ، شراب ، منشیات یا ایسی دواؤں کا استعمال سختی کے ساتھ ممنوع ہے جو وقتی نشہ یا فوری طور پر مصنوعی قوت پیدا کرتی ہیں۔ بن جانسن نے مقابلہ کے میدان میں داخل ہونے سے کچھ پہلے اسی قسم کی ایک مقوی عضلات دوا (Muscle-building drug) پی لی تھی جس کو اسٹانا زولول (Stanazolol) کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس وقت اس کی دوڑ دوا کے زور پر تھی نہ کہ اپنی فطری طاقت کے زور پر ۔
مذکورہ دریافت کے بعد بن جانسن سے سونے کا میڈل چھین لیا گیا۔ اعلان کیا گیا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues