Al-Risala · December 1988 · page 32

He ran like a bull

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۲

اب اس کو کھیل کے عالمی مقابلوں میں شریک نہیں کیا جائے گا۔ کناڈا کی حکومت نے اس کو ماہانہ ملنے والی امداد بند کر دی۔ اس طرح کی مختلف ذلتیں ایک کے بعد ایک اس کے سامنے اس طرح آئیں کہ اس نے سیول میں مزید ٹھہرنے کا حوصلہ کھو دیا۔ وہ فوری طور پر اپنے وطن کناڈا کے لئے روانہ ہو گیا۔ 27ستمبر کو ایر پورٹ کی جو تصویریں اخبارات میں آئی ہیں، ان میں دکھایا گیا ہے کہ فوٹوگرافر اس کی تصویر لینا چاہتے ہیں اور وہ مسلسل اپنا منہ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے (ہندوستان ٹائمز ۲۸ ستمبر ۱۹۸۸)

بن جانسن کے ایجنٹ لاری ہائڈ بریخت (Larry Heidebrecht) سے پوچھا گیا کہ بن جانسن نے کیوں سیول چھوڑ دیا، حالاں کہ اس کو اپنے دفاع کے لئے یہاں موجود رہنا چاہئے تھا۔ انڈین ایکسپریس (۲۸ ستمبر ۱۹۸۸) کے مطابق، ایجنٹ نے جواب دیا کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ آپ اس وقت سوالات کا جواب دینے کے قابل رہیں گے جب کہ آپ اپنی زندگی کے سب سے بڑے صدمہ سے دوچار ہوئے ہوں :

Do you think you would be around prepared to answer questions after the biggest shock of your life. دنیا کے اس واقعہ میں آخرت میں پیش آنے والے اسی قسم کے واقعہ کی تصویر ہے۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت میں کچھ لوگ آئیں گے جنھوں نے دنیا میں بظاہر بڑے بڑے اسلامی کارنامے انجام دئے ہوں گے۔ کوئی شخص عالم کی حیثیت سے مشہور رہا ہوگا۔ کسی نے اس اعتبار سے شہرت پائی ہوگی کہ اس نے دین کے کام میں بہت زیادہ مال خرچ کیا ہے۔ کوئی شخص مجاہد کا ٹائٹل پائے ہوئے ہوگا اور دین کی راہ میں جان دینے والے کی حیثیت سے قوم کے اندر ہیرو بنا ہوا ہوگا۔ مگر آخرت میں یہ لوگ جہنم میں ڈال دئے جائیں گے۔ خدا کہے گا کہ تم نے جو کچھ کیا شہرت اور ناموری کے لئے کیا، نہ کہ میری رضا اور خوشنودی کے لئے۔ تمہاری مطلوبہ چیز تم کو دنیا میں مل چکی۔ یہاں اب تمہارے لئے کچھ نہیں۔ جو شخص دین کے میدان میں غیر خدائی زور پر دوڑے۔ جس کا جوش دنیا کے لیے ہو نہ کہ آخرت کے لیے، ایسے شخص کا انجام آخرت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر وہی ہوگا جو بن جانسن کا انجام کمتر پیمانہ پر دنیا میں ہوا۔ مصنوعی زور پر دوڑنا نہ دنیا میں کسی کے لیے مفید ہے اور نہ آخرت میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues

Printed page