اسلام مغربی لٹریچر میں
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۰
کوشش کی جو محمد کے ساتھ وابستہ ہو گئے تھے۔ بعض بعض مواقع پر اس نے پہلے کسی واقعہ کی افسانوی تصویر کو نقل کیا ہے اور اس کے بعد تاریخی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ ایڈسن کے ایک ہم عصر, ہمفری پرائیڈ کس (Humphrey Prideaux) نے آپ کی مکمل سوانح حیات لکھی جس میں کبوتر کے قصہ کو اور اسی طرح دوسری بہت سی کہانیوں کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ان کو صحیح ماننے کے لئے کوئی واقعی بنیاد موجود نہیں ہے۔ تا ہم اس سوانح حیات کا مقصد صرف یہ ثابت کرنا تھا کہ اسلام ایک مکارانہ مذہب (Fraudulent Religion) کا معیاری نمونہ ہے۔ یہ سوانح عمری ایک صدی تک مغربی حلقوں میں مستند سمجھی جاتی تھی۔ زیادہ رواداری کا نقطہ نظر اٹھار ہویں صدی میں پیدا ہوا۔ اس زمانہ میں مغرب کے عربی دانوں نے اسلام کے متعلق زیادہ قابل اعتماد ذرائع کا ترجمہ کیا۔ سیاح اور تاجر زیادہ اچھے تاثرات لے کر لوٹے اور سفیروں اور مشنری کے عہدیداروں نے بھی اضافہ معلومات میں حصہ لیا۔ مثال کے طور پر جارج سینڈیز (George Sandys) جس نے قسطنطنیہ ، مصر اور فلسطین کی زیارت کی تھی، وہ ۱۶۱۵ء میں اپنے سفر کی روداد لکھتے ہوئے مسلمانوں کی اور بہت سی چیزوں کے ساتھ زکوٰۃ کی تعریف کرتا ہے جو عیسائی اور یہودی عربار کو بھی دی جاتی تھی۔ تاہم زیادہ تر مثالوں میں لوگ ذاتی تحقیق سے زیادہ روایتی معلومات ہی پر اکتفا کرتے رہے ۔ حتیٰ کہ متخصصین پر وفیسروں تک کا یہ حال تھا کہ پیدائشی طور پر سنی سنائی روایات کو دہرادیا کرتے تھے ۔ پکاک کا جانشیں جوزف وائٹ (Josef White) ۱۷۸۴ء میں اپنے مشہور بیمپٹن لکچرز (Bampton lectures) میں مسیحیت کی حمایت کرتے ہوئے جب اسلام پر آیا تو محمد کے لئے اس کے پاس جو لفظ تھا وہ وہی عام روایتی لفظ تھا یعنی مکار اور فریبی (Imposter) اسی طرح بعد کے ممتاز علماء ، مثلاً ولیم میور (اڈنبرا یونیورسٹی)، ڈائیس ۔ مار گولیتھ (آکسفرڈ)، ہنری لانس (بیروت یونیورسٹی) کے یہاں بھی قدیم رجحانات کے آثار ملتے ہیں۔
مقالہ نگاروں اور مورخوں کے ہاتھوں میں محمد، قرآن اور اسلام کا معاملہ اس سے بہتر رہا ہے جو پہلے مذہبی علماء ، ناول نگاروں اور شاعروں کے ہاتھ میں ان کا حشر ہوا تھا۔ اس سلسلے میں پہلا قابل ذکر نام سائمن آکلے (Simon Ockley) کا ہے جو کیمبرج یونیورسٹی میں عربی کا پروفیسر تھا۔ اس نے مسلمانوں کی تاریخ پر دو جلدوں میں ایک کتاب لکھی ہے۔ اگرچہ کیمبرج کا یہ عالم بھی مکار (Imposter) کو محمد کے ہم معنی لفظ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اور اسلام اور توہمات اس کے یہاں مرادف الفاظ ہیں۔ مگر
‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues