Al-Risala · December 1988 · page 41

اسلام مغربی لٹریچر میں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۱

مخصوص تاریخی واقعات کے بیان میں اس نے راست گوئی سے کام لیا ہے۔ شام کی فتح کا حال بتاتے ہوئے، مثال کے طور پر، وہ باز نطینیوں کی غارت گری اور دغا بازی کا مقابلہ ابو بکر کی فوجوں کی شجاعت اور ان کے اعلیٰ رویے سے کرتا ہے جن کو خلیفہ کی ہدایت تھی کہ کسی عورت یا بچے کو قتل نہ کریں، کھجوروں کے درخت نہ کاٹیں اور نہ کھیت کو نقصان پہنچائیں۔ آکلے کی اس کتاب نے مستند درجہ حاصل کیا اورگبن کے ظہور سے پہلے تک وہ عرب تاریخ پر بنیادی ماخذ سمجھی جاتی رہی۔

ایڈور ڈ گین (Edward Gibbon) جو جد ید انگریزی تاریخ کا بانی ہے، اس نے اپنی مشہور کتاب "سلطنت روما کا زوال" کی پانچویں جلد کے پچاسویں باب کو اس موضوع کے لئے مخصوص کیا ہے۔ اپنے اعتراف کے مطابق وہ "مشرقی زبانوں سے مکمل طور پر نا واقف" تھا۔ اس لئے قدرتی طور پر اس کا ماخذ وہی کتابیں تھیں جو اس سے پہلے یورپ میں لکھی گئی تھیں اور اس بنا پر اس کی ترجمانی بھی واقعہ کے مطابق نہ ہوسکی۔ تا ہم اس نے بہت سی روایات کو غلط قرار دیا مثلاً اس نے کہا کہ مکا ر نبی کا لقب ایک خطر ناک اور نا قابل اعتبار (Perilous and Slippery) چیز ہے ۔

فرانس میں والٹیر پیدا ہوا جو بحیثیت مورخ زیادہ محتاط تھا مگر بحیثیت المیہ نگار (Tragedian) محتاط نہیں تھا۔ اپنی تاریخی کتاب 1756 ، میں وہ محمد کا ذکر رواداری کے ساتھ کرتا ہے۔ وہ محمد کا مقابلہ کرامویل (Cromwell) سے کرتا ہے۔ وہ ان کے کارناموں کو انگلینڈ کے نجات دہندہ (کرامویل) سے بہت زیادہ عظیم قرار دیتا ہے مگر اپنے المیہ ناٹک (Tragedy) 1742 میں وہ محمد کو قرون وسطیٰ کے لباس میں مکار، ظالم اور عیاش بنا کر پیش کرتا ہے۔ اگر چہ یہ بھی حقیقت ہے کہ والٹیر کا اسلام پر حملہ، عمومی طور پر اس کے مخالف مذہب ہونے کا نتیجہ تھا۔ والٹیر کا انحصار انگریزی ماخذ پر تھا۔ خاص طور پر سیل کا ترجمہ قرآن کیوں کہ وہ انگلینڈ میں رہا تھا اور انگریزی زبان سیکھی تھی ۔

والٹیر سے زیادہ جرمن شاعر ۔ گوئٹے (۱۷۴۹ – ۱۸۳۲) وہ شخص تھا جو جدید اسپرٹ اور نئے بین الاقوامی نقطہ نظر کا پیمیا مر بنا۔ گوئٹے نے اپنی زندگی میں محمد کے حالات پر ایک نظم شروع کی مگر وہ اس کو مکمل نہ کر سکا۔ گوئٹے یہ یقین کرنے کے لئے تیار نہ تھا کہ عربی پیغمبر ایک مکار شخص تھا۔ سعدی کی گلستاں کے جرمن ترجمے نے خاص طور پر گوئٹے کو بہت متاثر کیا۔ ۱۸۱۲ میں حافظ کے کلام کا جرمن زبان میں ترجمہ ہوا تو گوٹے کو اس میں حکمت ، تقدس اور سلامتی نظر آئی جو اس کے خیال میں مغرب

‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues

Printed page