عرض مترجم
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۲
کو خاص طور پر درکار تھی۔
اسلامی کلچر کے بارے میں مغربی علم رکا بدلا ہوا نقطہ نظر جس کا آغاز انگریز اور فرانسیسی پروفیسروں نے کیا تھا اور جرمن اور دوسرے ادیبوں اور شاعروں نے جس کو تقویت دی تھی، وہ انیسویں صدی کے وسط تک بالکل واضح ہو گیا۔ کارلائل کا محمد کو پیغمبرانہ ہیرو کے کردار کے لئے منتخب کرنا، بیک وقت نئے رجحان کی طرف اشارہ تھا۔ اور اس میں اضافہ کرنے والا بھی تھا۔ کارلائل کی کتاب میں مشکل سے کوئی ناخوشگوار فقره ہوگا۔ در حقیقت یہ کتاب اس لئے قابل تنقید ہو سکتی ہے کہ وه غیر تنقیدی ہے” محمد ایک سازشی مکار ہیں، وہ جھوٹ کا مجسمہ ہیں۔ ان کا مذہب محض عطائی نسخوں کا مجموعہ ہے۔ اس قسم کی باتیں کارلائل کو گوارا نہیں تھیں ۔ اس کا ہیرو (محمد) واقعی ایک انسان تھا، سچا انسان۔
عرض مترجم
اوپر جو ترجمہ نقل کیا گیا ہے، وہ بتاتا ہے کہ عیسائی حضرات نے پیغمبر اسلام کو بدنام کرنے کے لئے کتنی زیادہ لغو حرکتیں کی ہیں۔ مزید یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم زمانہ میں پیغمبروں کے ساتھ کس قدر ظالمانہ سلوک کیا گیا ہے۔
خدا کے پیغمبر خالص سچائی کے علمبردار تھے۔ ان کا وجود ان لوگوں کو غیر معتبر ثابت کرنے کے ہم معنی تھا جو جھوٹ پر کھڑے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ پیغمبروں کو برداشت نہ کر سکے۔ انھوں نے پیغمبروں کی سخت ترین مخالفت کی اور ان کے بعد ان کی تاریخ کو اس طرح بگاڑ ڈالا کہ کوئی شخص ان کی سیرت اور ان کے پیغام کو جاننا چاہے تو اس کے لئے اس کے متعلق صحیح معلومات حاصل کرنا ممکن ہی نہ رہے۔
اوپر یورپ کے مسیحی لٹریچر کی جو مثالیں، نقل کفر کفرنباشد کے اصول کے تحت درج کی گئی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی وہی سب کچھ بدترین شکل میں کیا گیا جو دوسرے پیغمبروں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ آپ کے مخالفین نے آپ کی سیرت اور آپ کے پیغام کو بگاڑنے کے لئے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتے تھے۔
مگر یہاں دونوں کے درمیان ایک زبر دست فرق ہے۔ دوسرے پیغمبروں کی سیرت اور
‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues