دو نمونے
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۸
ھذہ الآيۃ (مَن ذاالَّذِى یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضاً حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَہُ) قال ابو الدحداح الانصارى یا رسول اللّٰہ وانّ اللّٰہ لیريد منا القرض - قال نعم یا ابا الدحداح - قال ارنی یدك یا رسول اللّٰہ - قال فناولہ یدہ - قال فانّی قد اقرضتُ ربی حائطی - ولہ حائط فیہ ستّ مائۃ نخلۃ و ام الدحداح فیہ وَعِيَالُهَا-قال: - قال فجاء ابو الدحداح فناداھا یا ام الدحداح - قالت لبّیك - قال اخرجی فقد اقرضتُہ ربی عز وجل - فقالت لہ ربح بیعك یا ابا الدحداح ونقلت منہ متاعھا و صبیانھا - (تفسیر ابن كثیر ، الجزء الرابع ، صفحہ ، ۳۰) یہ آیت اتری : کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسن دے تو وہ اس کو کئی گنا بڑھا دے۔ اس آیت کو سن کر حضرت ابو الدحداح نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں اے ابو الدحداح ۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، مجھے اپنا ہاتھ دکھائیے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ انھوں نے کہا کہ پھر میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض میں دے دیا۔ اور ان کا ایک باغ تھا جس میں چھ سو کھجور کے درخت تھے ۔ اس وقت ان کی بیوی ام الدحداح اپنے بچوں کے ساتھ اس میں تھیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو الدحداح آئے اور آواز دی کہ اے ام الدحداح ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ۔ ابوالد حداح نے کہا کہ اس باغ سے نکلو۔ کیوں کہ وہ میں نے اپنے رب کو قرض میں دے دیا۔ ام الدحاح نے کہا کہ اے ابو الدحداح آپ کا سودا کامیاب رہا۔ اور اپنا سامان اور بچے لے کر وہاں سے چلی آئیں ۔
قرآن کی جو آیت اوپر نقل کی گئی ہے ، وہ انھیں الفاظ کے ساتھ یہود کے سامنے آئی ۔ اور ٹھیک انھیں الفاظ کے ساتھ ابوالدرداء انصاری کے سامنے آئی ۔ مگر دونوں کا رد عمل ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی کلام کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس کا صحیح جواب دینے کے لیے سنجیدگی ضروری ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ نہ ہو تو وہ نہ خدا کے کلام کے ساتھ انصاف کر سکتا ہے یہ ۔۔۔۔ بیات ۔۔۔۔ ۔
اور نہ انسان کے کلام کے ساتھ ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues