Al-Risala · February 1988 · page 9

دو نمونے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۹

ایک آیت

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا اور اگر تم کو دونوں کے درمیان بگاڑ کا اندیشہ مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا ۚ إِنْ يُرِيدَا ہو تو ایک منصف مرد کے اہل میں سے اور ایک إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا منصف عورت کے اہل میں سے کھڑا کرو۔ اگر دونوں خَبِيرًا النساء ٣٥ اصلاح چاہیں گے تو اللہ دونوں کے درمیان موافقت کر دے گا۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا باخبر ہے ۔

اس آیت کی تشریح میں مولانا محمود حسن صاحب لکھتے ہیں " یعنی اے مسلمانو، اگر تم کو اندیشہ ہو کہ خاوند اور عورت میں مخالفت اور ضد ہے۔ وہ اپنے باہمی نزاع کو خود نہ سلجھا سکیں گے تو تم کو چاہیے کہ ایک منصف مرد کے اقارب میں سے اور ایک منصف عورت کے اقارب میں سے مقرر کر کے بغرض فیصلہ زوجین کے پاس بھیجو۔ یہ دونوں منصف احوال کی تحقیق کریں گے۔ اور جس کا جتنا قصور دیکھیں گے اس کو سمجھا کر باہم موافقت کرا دیں گے۔ اگر دونوں منصف اصلاح بین الزوجین کا قصد کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے حسن نیت اور حسن سعی سے زوجین میں موافقت کرا دے گا۔

جب کبھی دو مسلمانوں میں نزاع کی کوئی صورت پیدا ہو تو وہ قرآن کے اس حکم کے تحت آ جائے گا۔ اور عام مسلمانوں پر لازم ہو جائے گا کہ اس طریقہ کو اختیار کر کے مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو ختم کریں۔ تاہم اس قرآنی حکم کی برکت اسی وقت ظاہر ہو سکتی ہے جب کہ فریقین اپنے ذاتی اصرار کو چھوڑ کر خدائی فیصلہ کے آگے جھکنے پر راضی ہوں۔ حضرت علیؓ کے سامنے ایک مرد اور ایک عورت کا جھگڑا لایا گیا ۔ آپ نے دونوں طرف سے ایک ایک حکم مقرر فرمایا ۔ عورت نے کہا کہ میں کتاب اللہ کے فیصلہ پر راضی ہوں، خواہ وہ میرے موافق ہو یا میرے خلاف۔ مرد نے کہا کہ اگر تفریق کا فیصلہ ہوا تو وہ مجھے قبول نہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ تم نے جھوٹ کہا ۔ خدا کی قسم تجھ کو اللہ کی کتاب کے فیصلہ پر راضی ہونا پڑے گا، خواہ وہ تمہارے موافق ہو یا تمہارے خلاف ۔

(تفسیر ابن کثیر ، الجزء الاول ، صفحه ۴۹۳)

‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues

Printed page