عمر بن عبد العزیز شوریٰ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۵
خشیتِ خداوندی (مناظر ۲۸) سے پیدا ہوتا ہے۔ کتابی علم کی ایک حد ہے، مگر خشیت کے ذریعہ ملنے والے علم کی کوئی حد نہیں۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دینی مقام اتنا بلند ہے کہ وہ عمر ثانی کہے جاتے ہیں۔ ان کے مخالفین تک ان کی عظمت اور پاکبازی کا اعتراف کرتے تھے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ بنو امیہ میں وہ واحد شخص تھے جن کا احترام بعد کو آنے والے بنو عباس کرتے تھے، حتیٰ کہ وہ شیعوں کے درمیان بھی انتہائی محترم سمجھے جاتے تھے جو دوسرے مسلمانوں سے الگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد علی کی پیروی کرتے ہیں :
جراح بن عبد اللہ اسلمی خراسان کے عامل (گورنر) تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس شکایت پہنچی کہ اہل ذمہ میں سے جو لوگ اسلام قبول کر لیتے ہیں، جراح بن عبداللہ ان سے بھی جزیہ وصول کرتے ہیں۔ آپ نے فوراً جراح بن عبداللہ کے پاس یہ حکم بھیجا کہ جو شخص نماز پڑھتا ہو اس کا جزیہ معاف کر دیا جائے۔ اس خبر کو سننے کے بعد لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہونے لگے ۔
جراح بن عبداللہ نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے کہا کہ اگر ایسی پالیسی اختیار کی گئی تو ہماری آمدنی بہت کم ہو جائے گی اور حکومت کو سخت مالی نقصان ہوگا۔ آپ نے فرمایا : تمہارا برا ہو، محمد ہدایت کے لیے بھیجے گئے تھے نہ کہ مال گزاری وصول کرنے کے لیے (ویحک إن محمداً بعث هادياً ولم يبعث جابياً)
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues