عمر بن عبد العزیز شوریٰ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۴
ہاتھ پر خلافت کی بیعت ہوئی ہے تو بلا تاخیر وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی۔
عبد العزيز بن ولید نے کہا کہ مجھ کو آپ کی بیعت کا حال معلوم نہ تھا، ورنہ میں اپنی خلافت کا اعلان نہ کرتا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے کہا کہ اگر تم خلافت کے لیے کھڑے ہو جاتے تو میں ہرگز تمہارے مقابلہ پر نہ آتا بلکہ اس سے الگ ہو کر اپنے گھر میں بیٹھ جاتا۔ عبد العزیز بن ولید نے کہا کہ خدا کی قسم آپ کی موجودگی میں کسی اور کو میں خلافت کا مستحق نہیں سمجھتا۔ مسلمانوں میں انتہا پسند خوارج کا ایک طبقہ پیدا ہو گیا تھا۔ وہ حضرت علی کے زمانہ سے ہر حکمراں کے خلاف جنگ چھیڑے رہتا تھا۔ مگر جب عمر بن عبد العزیز خلیفہ ہوئے تو خوارج نے حکومت سے لڑائی ختم کر دی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم ایسے صالح آدمی سے جنگ کریں ( ما ينبغى لنا أن نقاتل هذا الرجل )
عمر بن عبد العزیز ابتدا سر سے ایک حق پرست اور با اصول آدمی تھے۔ خلافت سے پہلے وہ مدینہ کے امیر تھے ۔ ان کو حجاج بن یوسف کے ظلم کا حال معلوم ہوا تو انھوں نے اس کی شکایت لکھ کر خلیفہ کے نام روانہ کی۔ مگر حجاج خلیفہ کے ذہن پر چھایا ہوا تھا۔ چنانچہ حجاج کی معزولی تو نہیں ہوئی۔ البتہ اس شکایت کی بنا پر خود عمر بن عبد العزیز امارت مدینہ سے معزول کر دیے گئے۔ یہ واقعہ ۹۳ ھ کا ہے۔
خراسان کے عامل جراح بن عبد اللہ نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو لکھا کہ اہل خراسان بہت نا ہموار لوگ ہیں، وہ تلوار کے بغیر سیدھے نہیں ہوں گے۔ اس لیے ان کے خلاف تلوار کے استعمال کی اجازت دی جائے ۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے جواب میں لکھا کہ تم جھوٹ کہتے ہو کہ اہل خراسان تلوار کے بغیر درست نہ ہوں گے۔ انصاف کرنا اور حق دار کو اس کا حق پہنچانا وہ چیزیں ہیں جو ہر ایک کو درست کر دیتی ہیں۔ اس لیے تم ان کے درمیان انھیں دونوں چیزوں کی اشاعت کرو۔ وقت کے تمام علماء نے آپ کے غیر معمولی علم کی گواہی دی ہے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم عمر بن عبد العزیز کے پاس اس خیال سے آئے کہ وہ ہم سے کچھ سیکھیں گے ، مگر ان کے پاس آنے کے بعد ہمیں خود ان سے سیکھنا پڑا ۔ اس سے مراد کتابی علم نہیں ، بلکہ وہ علم ہے جو
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues