Al-Risala · February 1988 · page 20

حکمتِ تدریج

الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۰

حکمتِ تدریج

اگر یہ سوال کیا جائے کہ گھر کیا ہوتا ہے تو گھر کی پوری تصویر اس کے تمام اجزاء سمیت بیک وقت آدمی کے سامنے رکھ دی جائے گی ۔ لیکن اگر سوال یہ ہو کہ گھر کیسے بنتا ہے تو جواب کی شکل دوسری ہوگی ۔ اب کہا جائے گا کہ پہلے زمین کی فراہمی، پھر بنیاد، اس کے بعد دیواریں، اس کے بعد چھت وغیرہ۔ اسی طرح اگر سوال کیا جائے کہ درخت کیا ہے تو جواب دینے والا بیک وقت پورے درخت کا تعارف کرائے گا۔ لیکن اگر سوال یہ ہو کہ درخت کیسے وجود میں آتا ہے تو جواب دینے والا دوبارہ ایک ترتیب کے ساتھ اجزاء درخت کا ذکر کرے گا پہلے زمین ، اس کے بعد بیج ، پھر پانی اور حفاظت ، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے پورا درخت ۔

یہی معاملہ اسلام کا بھی ہے۔ اگر سوال یہ ہو کہ "اسلام کے احکام کیا کیا ہیں" تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ قرآن وحدیث میں جن احکام کا ذکر ہے ، ان سب کی فہرست تیار کر کے رکھ دی جائے لیکن اگر سوال کرنے والا یہ سوال کرے کہ "اسلام کی اشاعت کیسے کی جائے" تو جواب کی شکل بدل جائے گی ۔ اب " الاقدم فالاقدم " کے اصول پر جواب دیا جائے گا۔ اب بتایا جائے گا کہ اسلام میں بہت سے احکام ہیں مگر اس کے کچھ اجزاء پہلے مرحلہ میں مطلوب ہیں اور کچھ اجزاء بعد کے مرحلہ میں ۔ بیانِ احکام میں فہرست مطلوب ہوتی ہے اور اشاعتِ احکام میں ترتیب ۔ ایک صورت میں تمام احکام بیک وقت بتانے ہوتے ہیں، جب کہ دوسری صورت کا تقاضا ہوتا ہے کہ احکام کو تدریج کے ساتھ ایک کے بعد ایک سامنے لایا جائے ۔

تمام کتب فقہ "بیانِ احکام" کے اسلوب پر لکھی گئی ہیں ، اس لیے ان میں ایک ہی کتاب میں تمام احکام کی تفصیل دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ مگر دعوت واشاعت کے مصالح اس سے الگ ہیں ۔ فقہ میں اگر فہرست بندی کی اہمیت ہے تو دعوت واشاعت میں ترتیب و تدریج کی۔ دعوت واشاعت کے کام کی یہی حکمت ہے جو اس حدیث میں بیان ہوئی ہے جو صحاح ستہ کی تمام کتابوں میں مختلف طریقوں سے منقول ہوئی ہے :

قال البخاری : حدّثنا حبان ، اخبرنا عبد الله ، عن زكريا بن ابی اسحاق ، عن يحيی بن

‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues

Printed page