حکمتِ تدریج
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۱
عبد الله بن صيفي، عن أبي معبد مولى ابن عباس، عن ابن عباس، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمعاذ بن جبل حين بعثه الى اليمن: " انك ستأتي قوماً اهل كتاب، فأذ جئتهم فادعهم الى ان يشهدوا ان لا اله الا الله وان محمداً رسول الله، فان هم أَطَاعُوا لك بذلك فأخبرهم ان الله فرض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة، فان هم أَطَاعُوا لك بذلك فأخبرهم ان الله فرض عليهم صدقةً تؤخذ من اغنيائهم فَتُرَدُّ على فقرائهم، فان هم أَطَاعُوا لك بذلك فاياك وَكَرَائِمَ اموالهم، واتق دعوة المظلوم فانه ليس بينها وبين الله حجاب"
حضرت عبد الله بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے کہا۔ تم ایک ایسی قوم کی طرف جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں۔ جب تم ان کے پاس پہنچو تو ان کو دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ پس اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ نے ان کے اوپر ہر رات اور دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ پس اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ نے ان کے اوپر زکوٰۃ فرض کی ہے جو کہ ان کے دولت مندوں سے لی جاتی ہے اور ان کے غریبوں کو لوٹا دی جاتی ہے۔ پس اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو اس سے بچو کہ تم ان کا صرف اچھا مال لو۔ اور مظلوم کی پکار سے ڈرو، کیوں کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ آپ نے بیان احکام اور عملی مطالبہ میں فرق فرمایا ہے۔ حکم بیان کرتے وقت تو آپ نے تمام ضروری احکام بیان فرمائے۔ مگر عمل کے مطالبہ کے معاملہ میں آپ نے نرمی اور رخصت کا اور ترتیب و تدریج کا لحاظ فرمایا۔ مثلاً قبیلہ ثقیف (طائف) کا وفد رمضان 9 ھ میں مدینہ آیا۔ یہ لوگ چھ آدمی تھے۔ اور ان کے سردار عبد یا لیل تھے۔ یہ لوگ مسجد نبوی میں ٹھہرائے گیے۔ وہ کئی دن تک قرآن کو سنتے رہے اور اسلام کے احکام و مسائل کی بابت دریافت کرتے رہے۔
اس سلسلہ میں جو تفصیلات سیرت و حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، ان سے معلوم
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues