حکمتِ تدریج
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۶
عنوان حسب ذیل الفاظ میں قائم کیا گیا تھا :
بھارت میں مسلم کشی بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام بھارت میں مسلمانوں کے خون کی ہولی ایک طرف اس قسم کی مبالغہ آمیز بلکہ خلاف واقعہ خبریں تھیں ۔ دوسری طرف روز نامہ جنگ (کراچی) ۱۲ جون ، ۱۹۸۷ کے آخری صفحہ پر مہاجر قومی موومنٹ (MQM) کے لیڈر مسٹر الطاف حسین کا ایک بیان تھا جس میں دوسری باتوں کے ساتھ حسب ذیل الفاظ چھپے ہوئے تھے : ’’ پاکستان کی جو سیاسی اور مذہبی جماعتیں ہندوستانی مسلمانوں کے غم میں گھل رہی ہیں ، اگر انھیں واقعی ہندوستان کے مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی ہے تو وہ سڑکوں پر نکل آئیں اور اس وقت تک کے لیے دھرنا مار کر بیٹھ جائیں جب تک کہ مظلوم مسلمانوں کے لئے پاکستان کی سرحد کھولنے کا مطالبہ تسلیم نہ کرا لیں ۔ ان مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو یہ اعلان کرنا چاہئے کہ ہم آدھا کھانا بھارت کے مظلوم مسلمانوں کو دیں گے اور انھیں یہاں رکھیں گے ۔ بھارتی مسلمانوں کے لئے صرف زبانی جمع خرچ کیا جار ہا ہے ۔ ‘‘ بظاہر یہ دونوں بیان ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں ۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔ دونوں ہی کا مقصد اپنے مد مقابل کو ڈس کریڈٹ کرنا ہے۔ یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ ایک کا مد مقابل ہندوستان کا ہندو ہے اور دوسرے کا مد مقابل خود پاکستان کا غیر مہاجر مسلمان ۔
۱۲ جون کی شام کو ۱۰ بجے میں کراچی پہنچا۔ یہاں تقریباً دورات اور ایک دن قیام رہا۔ یہ قیام جناب فضل الرحمن صاحب ایم اے کے مکان پر تھا۔ وہ ایک ذہین اور صاحب مطالعہ آدمی ہیں ، ان سے یہاں کے بارہ میں کافی معلومات حاصل ہوئیں۔
آجکل یہاں مہاجر اور غیر مہاجر مسئلہ زوروں پر ہے۔ یہ مسئلہ اس سے زیادہ شدید صورت اختیار کر چکا ہے جس کو ہندوستان میں ’’ ہندو مسلم مسئلہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی تناؤ کا یہ نتیجہ ہے کہ اپریل ۱۹۸۵ میں جب ایک مہاجر لڑکی بشریٰ زیدی ایک غیر مہاجر (پٹھان) کی ٹرک سے دب کر
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues