Al-Risala · February 1988 · page 25

حکمتِ تدریج

الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۵

ایک سفر

۱۲ جون ۱۹۸۰ء کو مجھے ایک اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لئے افریقہ کے سفر پر روانہ ہونا تھا۔ اتفاق سے آج ہی ایک صاحب کا خط ملا جس میں "سفرنامہ" کے بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا گیا تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ الرسالہ میں سفرنامہ کی اشاعت بند کر دی جائے کیوں کہ اس میں شخصی تذکرے ہوتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ الرسالہ کا سفرنامہ تو تمام تر سبق اور معلومات سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ پھر کیوں بعض افراد سفر نامہ کے بارے میں مخالفانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سوچتے ہوئے میرا ذہن سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۶ کی طرف چلا گیا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ قرآن سے بہت سے لوگوں کو گمراہی ملتی ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت۔ میں نے سوچا کہ قرآن تو خدا کی کتاب ہے، وہ پوری طرح بے عیب اور کامل ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ اس سے بھی بہت سے لوگوں کو صرف گمراہی کا رزق حاصل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ قرآن کی اسی آیت میں موجود ہے۔ قرآن میں مکھی کی مثال دی گئی تو کچھ لوگوں نے کہا کہ قرآن تو خداوند عالم کی کتاب ہے۔ پھر اس میں مکھی اور مچھر جیسی چھوٹی اور معمولی چیزوں کا ذکر کیوں۔

ان لوگوں کی نظر "مکھی" اور "مچھر" کی طرف چلی گئی۔ وہ اس سبق کی طرف نہیں گئی جو مکھی اور مچھر کے تذکرہ میں چھپا ہوا تھا۔ اس لئے ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ خدا کی کتاب میں مکھی اور مچھر کا تذکرہ کیوں۔ یہی معاملہ الرسالہ کے سفر ناموں کا بھی ہے۔ اس میں بعض اوقات "مکھی" اور "مچھر" کے تذکرے ہوتے ہیں۔ اب جن لوگوں کی نگاہ مکھی اور مچھر پر اٹک کر رہ جائے انھیں سفرنامہ بے فائدہ معلوم ہوگا۔ مگر جن لوگوں کی نگاہ مکھی اور مچھر سے گزر کر اس کے سبق تک پہنچ جائے وہ سفر نامہ میں اپنے لئے قلب و دماغ کی غذا پائیں گے۔ اور خدا کے فضل سے ہمارے قارئین میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

یہ سفر براستہ کراچی ہوا۔ دہلی سے پاکستان ایرویز کی فلائٹ نمبر ۲۹۱ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز کے اندر پاکستان کے اردو اخبارات برائے مطالعہ موجود تھے۔ ان اخبارات میں میرٹھ کے فرقہ وارانہ فساد کی خبریں تھیں۔ مگر ان کا عنوان "میرٹھ میں فرقہ وارانہ فساد" نہیں تھا۔ بلکہ ان کا

‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues

Printed page