Al-Risala · February 1988 · page 31

حکمتِ تدریج

الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۳۱

سیکھیں ۔ اگر وہ حقیقت پسندی پر راضی نہیں ہوتے تو دونوں کے لئے بربادی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔

" پاکستان بنا کر ہمارے بزرگوں نے ایسی غلطی کی ہے جس کی سزا ہم اب تک بھگت رہے ہیں" چودھری منیر جاوید (ریڈ اسٹش (۲۳ ۱۹) نے کہا۔ انھوں نے مہاجرین کے خلاف ان " مظالم" کی تفصیل بیان کی جو علی گڑھ کالونی اور قصبہ کالونی میں ان کے ساتھ کئے گئے ۔ میں نے پوچھا کہ یہ معاملہ شروع کہاں سے ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ اکتوبر ۱۹۸۶ میں حیدر آباد (سندھ) میں مہاجر قومی موومنٹ کا جلسہ تھا۔ اس موقع پر کراچی سے ۲۵ ہزار آدمی گئے ۔ کراچی سے جانے والی بسوں کا خرچ ۴۰ لاکھ تھا۔

مہاجرین کا یہ قافلہ جب سہراب گوٹ (پٹھانوں کی بستی) کے پاس پہنچا تو انھوں نے پٹھانوں کے خلاف نعرے لگائے ۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان فائرنگ ہوئی۔ پولیس کے بیان کے مطابق پہلے مہاجر کی طرف سے فائر کیا گیا۔ اس کے بعد پٹھانوں نے جواب میں گولی چلائی۔ مہاجرین کا کہنا ہے کہ پہلے پٹھانوں کی طرف سے گولی آئی۔ اس کے بعد مہاجرین نے فائر کیا۔ اس موقع پر ایک پولیس افسر (ارتی حسین) کو بھی گولی لگی۔

یہ واقعہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۶ کا ہے۔ اس وقت سے اب تک مہاجر اور پٹھان کے درمیان کشمکش جاری ہے ۔ دونوں طرف اشتعال ہے اور کوئی بھی چھوٹا سا واقعہ دونوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا دیتا ہے ۔ باقاعدہ گولیاں چلتی ہیں۔ آتش زنی کی جاتی ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ اب تک دونوں طرف سے تقریباً ڈیڑھ ہزار آدمی مارے جا چکے ہیں۔

میں نے یہاں کے ایک تعلیم یافتہ صاحب سے کہا کہ کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمان اور مسلمان اس طرح آپس میں لڑ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو زندگی کی علامت ہے ۔ زندہ لوگ ہی آپس میں لڑتے ہیں۔ مردہ لوگ کیا لڑیں گے۔ میں نے کہا کہ اسی قسم کا واقعہ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہوتا ہے تو آپ اس کو ہندو بربریت کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ اور جب یہی واقعہ پاکستان میں ہو تو اس کو مسلمانوں کی زندگی قرار دے رہے ہیں۔ کراچی میں کئی ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو قدیم سندھی ہیں۔ ان سے تفصیلی گفت گو ہوئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues

Printed page