حکمتِ تدریج
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۳۲
گل حسن تھیم (پیدائش ۱۹۲۹) جیکب آباد کے رہنے والے ہیں۔ ان سے میں نے سندھ کے ہندوؤں کے بارہ میں پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ سندھ کے ہندو سندھ کے مسلمانوں سے زیادہ خوش حال ہیں“ ”ہماری بات گورنمنٹ میں کم سنی جاتی ہے اور ہندوؤں کی بات گورنمنٹ میں زیادہ سنی جاتی ہے! انھوں نے کہا ”یہاں کا ہندو ہماری چھاتی پر بیٹھا ہوا ہے اور ہم اس کو چوم رہے ہیں“ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندو لوگ مسلمانوں سے زیادہ باشعور ہیں۔ میرٹھ کے فساد کے بعد اس کے ردعمل میں مئی ، 1987 میں جیکب آباد وغیرہ میں مسلمانوں نے ہندوؤں کی دکانیں توڑیں، مندر جلائے ۔ مگر ہندوؤں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔ اس فساد میں ہندوؤں کا تقریبًا پانچ کروڑ روپیہ کا نقصان ہوا۔ مگر جس وقت ان کی دکانوں میں آگ لگ رہی تھی وہ اپنے گھروں میں چلے گئے اور دروازہ بند کر کے بیٹھ گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خود مسلمانوں نے اور پولیس نے ان کی آگ بجھائی ۔ وہ بڑے سیانے لوگ ہیں۔
گل حسن تھیم نے کہا کہ ہماری سندھی زبان میں ایک مثل ہے اور یہاں کے ہندو پوری طرح اس پر عمل کرتے ہیں ۔ وہ مثل اس طرح ہے : جا سکتے حاجت نا ہیں ہتھیارن جی اتنے سمجھن کم وریا من جو رہیان ہتھیار کام نہ دیں وہاں بھاگ جانا ہی دانش مندی ہے، انھوں نے بتایا کہ اس ہوشیاری کا نتیجہ ہندوؤں کو یہ ملا ہے کہ جیکب آباد کی تجارت آج ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے۔ گورنمنٹ نے زراعت کے لئے ” انٹرسٹ فری لون“ کی اسکیم چلائی تو اس کا بھی زیادہ فائدہ ہندوؤں کو ملا۔ انھوں نے بتایا کہ جیکب آباد میں تقریباً تمام رائس ملیں ہندوؤں کی ہیں۔ ہندو اس کام کو نہایت ہوشیاری کے ساتھ کرتے ہیں۔ مثلاً وہ برائے نام کسی مسلمان کو اپنی مل میں حصہ دار بنا لیں گے اور اس کے بعد اس کا نام ” اسماعیل رائس مل “ رکھ دیں گے ۔ وغیرہ وغیرہ۔ ۱۴ جون ، ۱۹۸۷ کی دوپہر کو میں کراچی سے طرابلس پہنچا۔ یہاں میرا قیام الفندق الکبیر کے کمرہ نمبر ۳۰ میں تھا۔ ٹیلیوٹن پر اعلان کی وجہ سے فوراً ہی بہت سے لوگوں کو اطلاع ہو گئی۔ چنانچہ شہر کے کئی لوگ اسی دن ملنے کے لئے آگئے۔ تقریباً ایک درجن عرب نوجوان بھی جمع ہوگئے ۔ عرب نوجوانوں پر عام طور پر سید قطب کے انقلابی فکر کا غلبہ ہے۔ میں نے اسی کو گفتگو کا موضوع بنایا۔ میں نے کہا کہ یہ اسلام کی سراسر غلط تفسیر ہے۔ اور اس تفسیر نے پوری نسل کو برباد
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues