Al-Risala · February 1988 · page 38

Suleimab Amrani Kilemile

الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۳۸

یہاں عرب نوجوانوں کی کافی بڑی تعداد ہے جو اسلامی مرکز سے بخوبی واقف ہے اور اس دینی فکر سے بہت قریب ہے جو اسلامی مرکز کے تحت سامنے لایا جا رہا ہے۔ چند سفروں میں وہ لوگ مجھ سے زبانی طور پر اس مشن کے بارہ میں سنتے رہے ہیں۔ اور اب خدا کے فضل سے وہ اس مشن سے بہت قریب آچکے ہیں۔

ایک عرب نوجوان جو انجینئر ہیں، انھوں نے تاثرات بیان کرتے ہوئے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے بارہ میں یہ الفاظ کہے:

إننا نشعر إننا كنا في ظلام ، لا نعرف أين نسير ـ وعندما عرفنا الفكرة وعرفنا صاحب هذه الفكرة شعرنا كأننا خرجنا الى النور والهداية وكأننا ولدنا من جديد ـ هذا واحد في المأة من الشعور الحقيقى الاصلي ، لاننا لا نعرف كيف نعبر عن هذه الحقيقه التي نجدها في قلو بنا۔

۱۶ جون ۱۹۸۶ء کی صبح کو عرب طلبہ کی ایک جماعت میرے کمرے میں آگئی۔ ان سے مختلف اسلامی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ سنت میں ہر قسم کی رہنمائی موجود ہے۔ مگر نقص مطالعہ کی وجہ سے ہم سنت سے رہنمائی حاصل نہیں کر پاتے۔ میں نے کہا کہ مثال کے طور پر ایک حدیث ہے۔ امرت بقريـة تأكل القـرى يقولون يثرب وهى المدینة مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے) آپ حدیث کی کتابیں پڑھیں تو یہ حدیث آپ کو ”فضائل مدینہ “ کے باب کے تحت لکھی ہوئی ملے گی۔ چنانچہ پڑھنے والا جب اس کو پڑھتا ہے تو وہ اس کو مدینہ نامی ایک بستی کی فضیلت کے خانہ میں ڈال کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ حالانکہ گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو اس حدیث میں دعوت اسلامی کا منہاج بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ "مکہ" میں اگر کام کے مواقع نہ مل رہے ہوں تو "مدینہ" کو اپنے کام کا مرکز بناؤ۔ کیوں کہ مدینہ کے راستہ سے تم مکہ تک بلکہ تمام بستیوں تک پہنچ سکتے ہو۔

اس سلسلہ میں میں نے سید جمال الدین افغانی کی مثال دی۔ جس زمانہ میں وہ پیرس میں

‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues

Printed page