Suleimab Amrani Kilemile
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۳۷
فالعقلية اللغوية وحدها لا تكفی۔
اسی طرح کچھ عرب نوجوانوں کے سامنے میں نے حضرت عمرؓ کے ایک قول کی تشریح کی جس سے انھوں نے پوری طرح اتفاق کیا۔ وہ قول یہ ہے: ليس العاقل الذي يعرف الخير من الشر، و لكنه الذی يعرف خير الشرین (عقل مند وہ نہیں ہے جو خیر اور شر کو جانے، عقلمند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے خیر کون سا ہے)۔
میں نے کہا کہ زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انتخاب (Choice) خیر اور شر کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ ایک شر اور دوسرے شر کے درمیان ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو ایک کم تر شر پر راضی ہونا پڑتا ہے تاکہ وہ اس کو اختیار کرکے خیر کامل تک پہنچ سکے۔ اس کی ایک مثال حدیبیہ کا واقعہ ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر جو انتخاب تھا وہ عمرہ ادا کرنے اور عمرہ ادا نہ کرنے کے درمیان نہیں تھا، بلکہ عمرہ ادا نہ کرنے اور لڑ کر ہلاک ہو جانے کے درمیان تھا۔ آپ نے اس کو اہون سمجھا کہ وقتی طور پر عمرہ کی ادائیگی پر اصرار نہ کیا جائے تاکہ آئندہ ہمیشہ کے لئے عمرہ اور حج کی ادائیگی کا دروازہ کھل سکے۔
الاخوان المسلمون کے لئے مصر میں اور جماعت اسلامی کے لئے پاکستان میں اسی قسم کے حالات تھے۔ انھیں ابتداء کم تر شر پر راضی ہونا تھاتا کہ آخر کار وہ خیر برتر تک پہنچ سکیں۔ مگر وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ اگر وہ اس پیغمبرانہ نہج پر کام کرتے تو یقیناً آج مصر اور پاکستان کی تاریخ دوسری ہوتی۔
ایک مرتبہ میں نے اندازہ کرنا چاہا کہ عرب نوجوان اس فکر کو کتنا سمجھے ہیں۔ چنانچہ میں نے عرب نوجوانوں کی ایک جماعت سے سوال کیا:
هل منكم من يفسر هذا القول : الذى سيجرى على الكافر فى الآخرة يجرى على المؤمن فى هذه الدنيا (کیا آپ میں سے کوئی ہے جو میرے اس قول کی تشریح کرے، جو کچھ کافر پر آخرت میں گزرے گا وہ مومن پر اسی دنیا میں گزر جاتا ہے) مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ انھوں نے سوال کی گہرائی کو پوری طرح سمجھ لیا اور بالکل درست طور پر اس کا جواب دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues