Suleimab Amrani Kilemile
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۴۲
ایک مثال
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ تیرھویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے ۔ آپ کی پرورش قدیم مصر کی راجدھانی ممفس (Memphis) میں ہوئی۔ اس زمانہ میں مصر میں دو قومیں آباد تھیں۔ ایک قبطی جو ملک کا اکثریتی فرقہ تھا۔ فرعون اسی فرقہ کا ایک فرد تھا جس کا خاندان اس زمانہ میں مصر میں حکومت کر رہا تھا۔ دوسرا فرقہ وہ تھا جس کو بنی اسرائیل (یہود) کہا جاتا ہے۔ یہ فرقہ نہ صرف اقلیت میں تھا بلکہ حکمراں اکثریتی فرقہ اس کو زبر دست ظلم و ستم کا نشانہ بنائے ہوئے تھا۔ وہ مصر میں پست طبقہ کی حیثیت رکھتے تھے اور محنت مزدوری کے ذریعہ اپنی روزی حاصل کرتے تھے۔ مزید یہ کہ اگر بنی اسرائیل میں کوئی نوجوان اعلیٰ صلاحیت کا نظر آتا تو فرعون (شاہ مصر) اس کو قتل کرا دیتا تاکہ وہ بنی اسرائیل کا قائد بن کر حکمراں طبقہ کے لیے کوئی مسئلہ نہ کھڑا کرے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اگر چہ اسرائیلی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے ، مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا فرمائے کہ آپ کی پرورش شاہ مصر (فرعون) کے محل میں ہوئی۔ جب آپ بڑے ہوئے تو آپ کو اپنی قوم (بنی اسرائیل) کا حال معلوم ہوا۔ غالباً ۲۵ سال کی عمر تھی۔ ایک روز آپ شہر میں نکلے تو آپ نے یہ منظر دیکھا کہ دو آدمی ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک قبطی تھا اور دوسرا اسرائیلی ۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ کو اپنی قوم کا ایک فرد سمجھ کر اپنی مدد کے لیے پکارا۔ اس نے قبطی کو ظالم اور اپنے آپ کو مظلوم بتایا۔ حضرت موسیٰ نے اسرائیلی کی حمایت میں قبطی کو ایک گھونسہ مارا۔ آپ کا مقصد محض قبطی کا دفاع تھا ، مگر گھونسہ ایسے مقام پر لگا کہ وہ قبطی مر گیا۔
قبطی نے اسرائیلی کو قتل نہیں کیا تھا ، اس لیے اس کو قتل کرنا انصاف کے خلاف تھا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کو فوراً اپنی لغزش کا احساس ہوا۔ آپ نے کہا کہ یہ تو ایک شیطانی کام ہو گیا۔ شیطان انسان کو بہکا کر غلط کام کرواتا ہے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی نادانستہ غلطی پر معاف کر دیا۔ (القصص ۱۵ - ۱۶) اس وقت آپ نے جو دعا کی اس میں آپ کی زبان سے یہ الفاظ بھی نکلے :
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues