Suleimab Amrani Kilemile
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۴۳
رب بما انعمت على فلن أكون ظهيراً اے میرے رب، جیسا تو نے مجھ پر فضل فرمایا تو للمجرمين (القصص) اب کبھی میں مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا۔
چنانچہ اگلے دن جب حضرت موسیٰ دوبارہ شہر کی طرف نکلے تو آپ نے دیا کہ وہی اسرائیلی دوبارہ ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ اس نے دوبارہ آپ کو مدد کے لیے پکارا۔ مگر اس کی بار بار کی لڑائی سے آپ نے یہ سمجھا کہ یہ شخص خود ہی غلط کار ہے اور وہ غیر ضروری طور پر دوسروں سے لڑتا رہتا ہے۔ چنانچہ آپ نے کہا کہ تم خود ایک کھلے ہوئے شریر آدمی ہو۔ یہ اسرائیلی اگرچہ آپ کی اپنی قوم کا آدمی تھا، مگر آپ نے دوبارہ اس کی مدد نہیں کی۔ جب آپ نے اس کی مدد نہیں کی تو اس اسرائیلی نے کل کے دن کا راز کھول دیا جو ابھی تک چھپا ہوا تھا۔ اس نے شور کر دیکھا کہ وہ موسیٰ ہی ہیں جنھوں نے کل کے دن اسی مقام پر ایک قبطی کو گھونسا مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اسرائیلی کے اس فعل نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایک کمینہ شخص ہے۔ کیوں کہ ایک کمینہ شخص ہی ایسا کر سکتا ہے کہ ایک ذاتی اختلاف پیش آنے کی بنا پر کسی کے نازک راز کو عوام کے سامنے کھولنے لگے۔
جب قتل کا راز کھل گیا تو مصر کے حکمران گروہ نے آپ کو پکڑنا چاہا تاکہ آپ سے قبطی کے قتل کا انتقام لے۔ مگر آپ خاموشی کے ساتھ رمفس سے نکل کر مدین کی طرف روانہ ہو گئے۔ (القصص)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ واقعہ جو قرآن میں نقل کیا گیا ہے، اس میں ہندوستان کے موجودہ فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلہ میں نہایت اہم رہنمائی ملتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومنانہ طریقہ یہ ہے کہ آدمی مجرم کا مددگار نہ بنے۔
ہندوستان کے موجودہ حالات یہ ہیں کہ مسلمان یہاں اقلیت میں ہیں۔ وہ مختلف پہلوؤں سے اکثریتی فرقہ کے مقابلہ میں دبے ہوئے ہیں۔ اس بنا پر اکثر مسلم رہنما یہ فرض کر لیتے ہیں کہ یہاں کے فرقہ وارانہ جھگڑوں میں کبھی مسلمانوں کا قصور نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ کمزور فریق ہونے کی بنا پر وہ فریق ثانی سے لڑ کر جیت نہیں سکتے۔ مگر یہ مفروضہ غلط ہے۔ قرآن کی شہادت کے مطابق بنی اسرائیل نسبتاً زیادہ مغلوب ہونے کے باوجود مصر میں "مجرم" بن گئے۔ پھر مسلمان اس سے کمتر درجہ کی مغلوبیت کے باوجود یہاں مجرم کیوں نہیں بن سکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues