Al-Risala · February 1989 · page 47

آئیں گے غسال کا بل سے کفن جاپان سے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۴۷

۱۱۔ ایک صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں : الرسالہ کا میں اتنا عادی ہو چکا ہوں کہ مہینہ کا انتظار رہتا ہے ۔ آج تک میں نے کئی رسالوں کا مطالعہ کیا ۔ لیکن یہ ایک ہی ایسا رسالہ ہے جس نے مجھ کو خرید لیا ، میں اس کو خرید نہ سکا۔ میں بھی الرسالہ کی ایجنسی لے کر کارِ نبوت میں شریک ہونا چاہتا ہوں ۔ میرے نام ایجنسی شروع کر دیں ۔ ( ایاز فاروقی ، امراؤتی) ۱۲۔ الرسالہ کے ایک قاری اپنا نام ظاہر کیے بغیر لکھتے ہیں : آپ کی عمر دراز ہو اور تندرستی کی دولت حاصل رہے ۔ ماہ ستمبر کے الرسالہ میں حدیبیہ کی مثال دے کر معقول واپسی کی افادیت پر جو زور دیا ہے ، اسے پڑھ کر طبیعت خوش ہوگئی ۔ کسی فارسی شاعر نے کیا اچھا شعر کہا ہے : استسلیم دل بزور مسخر نمی شود این فتح بے شکست میسر نمی شود کتنے نادان و عاقبت اندیش ہیں وہ لوگ جو اپنے نظریات کے فروغ کے لیے تلوار کا سہارا لینا چاہتے ہیں ۔ کاش آپ کی باتوں پر ہمارے مسلمان بھائی ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں ۔

۱۳۔ مختلف ملکوں سے برابر ہمیں ایسے خطوط ملتے رہتے ہیں جن میں یہ درج ہوتا ہے کہ الرسالہ ہمیں دیکھنے کو ملا اور بہت پسند آیا ۔ اس کو ہمارے نام اعزازی طور پر جاری کر دیں مثلاً ماریشش سے مسز نسیم حسین کا خط مورخہ ۲۳ ستمبر ، یوگنڈا سے مسٹر عمر داؤد کا خط مورخہ ۲۶ اگست : وغیرہ اسی طرح ملک کے اندر سے بھی الرسالہ اور اسلامی مرکز کی مطبوعات کے بارہ میں خطوط موصول ہوتے ہیں کہ ہم فی الحال ان کی قیمت ادا نہیں کر سکتے مگر ہمیں ان کے مطالعہ کا بہت شوق ہے ۔

اس قسم کے بڑھتے ہوئے تقاضے کے پیش نظر رسالہ اور کتابوں کی بلا قیمت یا رعایتی قیمت پر فراہمی کے لیے ایک سبسڈی فنڈ قائم کیا جا رہا ہے ۔ جو لوگ اس فنڈ میں حصہ لینا چاہیں وہ اپنی رقم روانہ فرمائیں ۔ چک یا ڈرافٹ کے ذریعہ رقم بھیجنے والے اس کے اوپر اکاؤنٹ کا نام اس طرح لکھیں : Al-Risala Subsidy Fund ۱۴۔ ایک صاحب اپنے خط ۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ء میں لکھتے ہیں : الرسالہ کا ہر شمارہ عجیب سی کیفیت پیدا کرتا ہے جسے الفاظ میں ادا نہیں کیا جاسکتا ۔ سچ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنجناب کو قوم کی رہنمائی کے لیے چن لیا ہے ۔ ( پروفیسر کلیم احمد ۔ ریوا) )

‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues

Printed page