آئیں گے غسال کا بل سے کفن جاپان سے
الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۳۶
(کرم حسین خاں ، بمبئی، السلام کے پیغام کی عمومی اشاعت کا یہ بہترین طریقہ ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کی پیروی کرنا چاہیے ۔
اعزاز مسعود صاحب (بھوپال) نے بتایا کہ ہانگ کانگ سے ایک خاتون مسزافروز افضل بھوپال آئیں۔ یہاں ان کو انگریزی الالرسالہ کے کچھ شمارے دکھائے گئے ۔ انھوں نے اس کو بہت پسند کیا اور مستقل مطالعہ کی خواہش ظاہر کی۔ اب وہ انگریزی کی خریدار ہیں اور ان کو برابر لفٹ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ہر جگہ کے ساتھیوں کو کرنا چاہیے کہ باہر سے آنے والوں کو رسالہ دکھائیں اور اس سے متعارف کرائیں۔
جناب محی الدین صاحب (بمبئی) نے بتایا کہ ان کے ایک صاحب زادے جس دفتر میں کام کرتے ہیں، وہاں کچھ اور تحصیل بھی کام کرتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ کرسچن نے ایک روز کہا کہ میں نے ایک انگریزی میگزین الرسالہ نام کا دیکھا جو دہلی سے نکلتا ہے۔ وہ مجھے پسند آیا۔ بتاؤ کہ یہ بمبئی میں وہ کہاں سے ملے گا۔ اس کے بعد محی الدین صاحب کے صاحب زادے نے انگریزی رسالہ انھیں پہنچا نا شروع کر دیا۔ خدا کے فضل سے اس طرح مختلف طریقوں سے الرسالہ لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔ ضرورت ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ الرسالہ (انگریزی) کی ایجنسی لے کر اسے لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔
جناب الہی بخش احمد کریمی صاحب (مالدہ) الرسالہ کی ایجنسی چلاتے ہیں ۔ وہ اپنے خط ۲۰ اکتوبر ۱۹۸۸ میں لکھتے ہیں: ماشاء اللہ اردو, انگریزی الرسالہ اپنی مقبولیت میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس اطراف کے لوگ بڑے ذوق و شوق کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ بعض لوگ عشق کی حد تک گرویدہ ہو گئے ہیں۔
ایک صاحب اپنے خط ۴ نومبر ۱۹۸۸ میں لکھتے ہیں : اللہ اکبر اور اسلامی زندگی کا مطالعہ جاری ہے۔ بڑی لاجواب کتابیں ہیں۔ قرآن مجید کے علاوہ دنیا میں کوئی اور کتاب نہیں جس کو بار بار پڑھنے سے بھی کبھی بیزاری محسوس نہیں ہوتی ۔ لیکن قرآن مجید کے بعد اگر کوئی ایسی کتاب ہے جو لاکھ بار پڑھنے سے اکتاہٹ نہ ہو تو وہ بس آپ کی تصنیفات ہیں۔ (نیر ربانی ، بنگلور)
‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues