Al-Risala · March 1989 · page 4

کائنات کا سبق

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۴

کائنات کا سبق

قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ زمین و آسمان خدا کی حمد کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خدا کی صفات اور اس کے کلمات کو نمایاں کر رہے ہیں۔ یہ انتظام اس لیے ہے تاکہ انسان ان سے سبق لے، تاکہ وہ اپنے آپ کو کائناتی قافلہ کے ساتھ ہم آہنگ کر سکے۔ زمین و آسمان کس زبان میں خدا کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ جواب یہ ہے کہ چپ کی زبان میں۔ خدا اپنی کائنات میں چپ کی زبان میں بول رہا ہے ۔ وہ واقعات کی زبان میں ہم سے ہم کلام ہے۔ اب جو لوگ صرف شور کی زبان سننا جانتے ہوں ، وہ خدا کا پیغام سننے سے محروم رہیں گے۔

درخت کو دیکھیے ۔ ایک ہی مکمل وجود ہے مگر اس کی جڑیں نیچے زمین کی طرف جاتی ہیں اور اس کا تنہ او پر فضا کی طرف بلند ہوتا ہے۔ ایک ہی چیز میں دو متضاد خصوصیات کیوں ۔ اس لیے تاکہ آدمی چوکنا ہو، تاکہ وہ سوچنے پر مجبور ہو سکے۔ اس طرح آدمی کو چو کنا کر کے درخت یہ سبق دے رہا ہے کہ بلندی حاصل کرنا چاہتے ہو تو پہلے نچلی سطح پر اپنی بنیادوں کو مضبوط کرو۔ ہر چیز جو زمین پر کھڑی ہوئی ہو اس کا سایہ ہمیشہ نیچے پڑتا ہے۔ اصل اوپر اور سایہ نیچے کیوں ۔ انسان کے اندر کھوج پیدا کرنے کے لیے تاکہ وہ سوچے ۔ جب آدمی قدرت کے اس منظر پر سوچے گا تو اس پر یہ کھلے گا کہ زندگی کا سب سے اہم راز یہ ہے کہ ظاہری طور پر خواہ تم کو کتنی ہی بلندی حاصل ہو جائے، اپنے اندرونی وجود کو ہمیشہ متواضع رکھو۔

سمندر کو دیکھیے ۔ سمندر کا پانی کھاری ہوتا ہے ۔ مگر یہی سمندر جب اپنے پانی کو بارش کی صورت میں انسانوں کے لیے برساتا ہے تو وہ میٹھا پانی بن جاتا ہے ۔ سمندر اور اس کی بارش میں یہ فرق کیوں ۔ اس لیے تاکہ آدمی اس کو دیکھ کر سوچے ۔ جب آدمی سوچے گا تو اس پر یہ حقیقت کھلے گی کہ تمہارے سینے میں خواہ تلخ جذبات امنڈ رہے ہوں مگر جب تم اپنے احساسات کو باہر نکالو تو اس کو ٹھنڈے اور میٹھے پانی کی مانند بنا کر نکالو۔

کائنات خدا کا سبق ہے، مگر وہ سبق اس کے لیے جس نے اپنے کان اور آنکھ کو کھلا رکھا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues

Printed page