Al-Risala · March 1989 · page 5

قرآن اور عربی زبان

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۵

قرآن اور عربی زبان

رومن امپائر کے زمانہ میں امپائر کی عام زبان لاطینی تھی ۔ تاہم مختلف علاقوں میں لہجوں کا فرق تھا۔ زبان ایک تھی مگر لہجہ کے اعتبار سے وہ الگ الگ انداز میں بولی جاتی تھی۔ چوں کہ لہجہ کے اس فرق کو کسی ایک وحدت میں باندھے رکھنے کا ان کے پاس کوئی طاقتور ادبی معیار موجود نہ تھا، یہ فرق بڑھتا رہا، یہاں تک کہ لہجوں کا فرق بالآخر زبانوں کا فرق بن گیا اور مختلف زبانیں وجود میں آئیں جن کو اب رومی زبانیں (Romance languages) کہا جاتا ہے ۔ یہی مختلف زبانیں ہیں جن کو موجودہ زمانہ میں فرانسیسی، اسپینی، اطالوی، پرتگالی، رومانی زبانیں کہا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ یورپ کی بہت سی چھوٹی چھوٹی زبانیں مثلاً وغیرہ بھی اسی قدیم اصل کی (Occitan, Catalan, Sardinian, Rhaetian, Creoles) بدلی ہوئی صورتیں ہیں۔ اس طرح ایک زبان کچھ صدیوں کے بعد ایک درجن زبان بن گئی ۔ ایک زبان سے کئی زبان بننے کا یہی واقعہ عربی زبان کے ساتھ بھی پیش آسکتا تھا۔ قدیم زمانہ میں مختلف عرب قبائل کے لہجوں میں زبردست فرق پایا جاتا تھا ۔ آج بھی لہجوں کا یہ فرق مختلف عرب علاقوں میں بدستور موجود ہے ۔ ایک لہجہ کا آدمی دوسرے لہجہ کے آدمی کی بات کو بمشکل سمجھ سکتا ہے ۔

اس واضح فرق کے باوجود تمام عرب علاقوں کی تحریری زبان ایک رہی۔ وہ کئی زبان نہ بن سکی۔ عربی زبان کی وحدت براہ راست قرآن کا کرشمہ ہے۔ یہ تمام تر قرآن کا تاثیری کارنامہ ہے کہ اس نے عربی زبان کو ایک تحریری صورت پر باقی رکھا، اس نے عربی کو باعتبار تحریر، کئی زبان بننے نہیں دیا۔ بولنے کے وقت آدمی اپنے قبیلے کے لہجہ کی پیروی کرتا تھا، مگر لکھنے کے وقت وہ قرآن کی پیروی کرنے پر مجبور تھا۔ اہل طرح قرآن کا طاقت ور ادبی معیار ان کے بہاتی فرق پر اس طرح چھایا رہا کہ اس نے ان کو الگ الگ ہونے سے روک دیا۔ قرآن سے پہلے عرب میں زیادہ تر صرف شاعری کا رواج تھا۔ لوگ اشعار کی صورت میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے ۔ اہل عرب کے نزدیک ، قرآن سب سے پہلا کلام ہے ال رسالہ مارچ ۱۹۸۹

‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues

Printed page