Al-Risala · March 1989 · page 22

تقدس کی پامالی

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۲۲

تقدس کی پامالی

ایک مسلمان کا مراسلہ قومی آواز (16 دسمبر ۱۹۸۸) میں چھپا ہے۔ اس میں ہندوستانی حکومت کی شکایت کی گئی ہے کہ مسلم جماعتوں کی کوشش کے باوجود اس نے " محکمہ آثارِ قدیمہ کے تسلط والی مسجدوں میں نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی " مراسلہ کا خاتمہ ان جذباتی الفاظ پر ہوتا ہے : " مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ ان مساجد میں نماز پڑھ سکیں ، جب کہ ٹورسٹوں کو آزادی ہے کہ وہ ان مساجد میں جائیں، وہاں کھائیں پئیں ، ہنسیں بولیں ، ٹرانسٹروں پر گانے سنیں اور موج آئے تو ان گانوں کی دھن پر رقص بھی کر کے ان مساجد کے تقدس کو پامال کریں ۔ " (صفحہ ۶) اس معاملے میں مسلم رہنما اب تک صرف حکومتِ ہند کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انھیں خود اپنے خلاف احتجاج کرنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ حکومتِ ہند کا معاملہ نہیں، بلکہ خود خدا کا معاملہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ مومن کی حرمت کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ ہے (حرمة المؤمن اکرم حرمة من الكعبة)، مومن کی عزت و آبرو اتنی زیادہ قابل احترام ہے کہ کعبہ کے احترام سے بھی اس کا درجہ بڑھا ہوا ہے ، عام مساجد تو در کنار ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان اور ان کے تمام اصاغر و اکابر مسلسل اس عظیم تر جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

موجودہ مسلمانوں کا حال، تقریباً بلا استثناء ، یہ ہے کہ کسی مسلمان بھائی سے انھیں اختلاف یا شکایت ہو جائے تو وہ فوراً اس کی عزت و آبرو کو اپنے لیے حلال سمجھ لیتے ہیں۔ اس کے بعد اس مسلمان کی عیب جوئی ، اس کے خلاف الزام تراشی ، اس کا استہزاء ، و تمسخر، اس پر جھوٹی تہمت لگانا سب ان کے لیے جائز ہو جاتا ہے۔ مومن کے تقدس کی پامالی کا یہ کام موجودہ مسلم معاشرہ میں بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ مگر کوئی ایک شخص نہیں جو اس کے خلاف آواز اٹھائے۔ یہاں ہر بہادر عملاً بز دل بنا ہوا ہے ۔ مسلمانوں کا یہی جرم ہے جس نے انھیں خدا کی نظر میں معتوب بنایا۔ مسلمانوں نے خدا کے دین کے تقدس کو پامال کیا۔ اس کے نتیجہ میں خدا نے لوگوں کو چھوٹ دیدی کہ وہ مسلمانوں کے قومی تقدس کو پامال کریں۔ اس معاملے میں مسلمانوں کو خدا کی طرف دوڑنا چاہیے، کسی انسانی حکومت کی طرف دوڑنے سے کوئی فائدہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues

Printed page