Al-Risala · March 1989 · page 21

قول و عمل کا تضاد

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۲۱

قول و عمل کا تضاد

نئی دہلی میں 16 جنوری ۱۹۸۹ کو ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی جس میں دنیا بھر کے نمائندے اور دانشور جمع ہوئے۔ اس کانفرنس کا موضوع تھا۔ عالمی شہری کی تیاری: The Making of an Earth Citizen اس "عالمی شہری کانفرنس" کا افتتاح ہندوستان کے وزیر اعظم مسٹر راجیو گاندھی نے کیا تھا۔ وگیان بھون کے ایک ممتاز انٹرنیشنل اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے ایک ایسے نئے عالمی نظام کی تشکیل کرنے کی اپیل کی جس میں ہم سب علاقائی امتیازات سے بلند ہو کر آفاقی شہری بن جائیں۔ کیوں کہ یہ کرۂ ارض کسی ایک قوم کے لیے نہیں، بلکہ یکساں طور پر ہر ایک کے لیے ہے۔ عالمی شہریت کے اصول کو تسلیم نہ کرنے ہی کا نتیجہ وہ خطرناک تفریق اور امتیازات ہیں جو موجودہ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ اور اسی تقسیم کا یہ نتیجہ ہے کہ دنیا کی عظیم اکثریت اپنے جائز حصہ سے بھی محروم ہے۔ ان مصنوعی فاصلوں کو ختم کرنے کے لیے جنھوں نے انسانی سماج کو مختلف امتیازات کی بنیاد پر تقسیم کر رکھا ہے، ایک نیا آغاز بالکل ضروری ہے۔ انھوں نے مسز اندرا گاندھی کا یہ قول دہرایا کہ یہ دنیا ایک ہی کنبہ ہے۔ (ٹائمئس آف انڈیا، ہندوستان ٹائمس 17 جنوری ۱۹۸۹)

ہندوستان کے لیڈر انٹرنیشنل اسٹیج پر دنیا کے تمام لوگوں کو یکساں شہری حقوق دینے کا وعظ کہتے ہیں، مگر خود اپنا ملک جہاں انھیں اقتدار حاصل ہے، وہاں کے تمام باشندوں کو یکساں حقوق دینے کے لیے تیار نہیں۔ امتیاز پسند سماج کا حکمراں بن کر وہ بے امتیاز سماج قائم کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما بھی قول و عمل کے اسی تضاد میں مبتلا ہیں۔ وہ عدل و انصاف پر تقریریں کرتے ہیں اور خود اپنی زندگی کو عدل و انصاف کی پابندی سے آزاد کیے ہوئے ہیں، وہ اسٹیج پر احتساب عالم کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص انھیں احتساب خویش کی یاد دہانی کرائے تو وہ اس کے دشمن بن جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues

Printed page