مذہب اور سیاست
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۱
مشہور مثل ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اسی طرح مذہب کے نام پر چلائی جانے والی سیاست کو بھی اس کے نتیجہ کے اعتبار سے جانچنا چاہئے۔ اگر یہ سیاست اخلاق اور انسانیت کی فصل اگانہ ہی ہو تو وہ مذہبی لوگوں کی سیاست ہے۔ اور اگر اس کے نتیجہ میں باہمی ٹکراؤ اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت کا جھاڑ جھنکاڑ پیدا ہو تو یقینی طور پر وہ استحصالی سیاست ہے۔ اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔
اگر کہا جائے کہ مذہبی تجارت یا مذہبی ڈاکٹری، تو یہ الفاظ بے معنی معلوم ہوں گے۔ لیکن اگر ہم لفظ بدل دیں اور یوں کہیں کہ مذہبی آدمی کی تجارت یا مذہبی آدمی کی ڈاکٹری، تو پھر یہ الفاظ بے معنی معلوم نہیں ہوں گے۔ کیوں کہ مذہبی تجارت یا مذہبی ڈاکٹری کسی چیز کا نام نہیں۔ مگر مذہبی آدمی کی تجارت واقعہ ایک چیز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو اپنی سوچ اور اپنے ذہن کے اعتبار سے مذہبی ہو۔ ایسا آدمی جب تجارت کرے گا تو اس میں وہ اپنے مذہبی اصولوں کا لحاظ کرے گا۔ مثلاً وہ گاہک کو دھوکا نہیں دے گا۔ وہ لین دین میں خیانت نہیں کرے گا۔ وغیرہ۔ اس طرح اس کی تجارت مذہبی آدمی کی تجارت بن جائے گی۔
اسی طرح ایک شخص سچا مذہبی ہو، اس کے بعد وہ ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرے تو وہ اپنے مریضوں کو صرف پیسہ لوٹنے کا ذریعہ نہیں سمجھے گا۔ بلکہ وہ ان کا ہمدرد ہو گا وہ ان کو صحیح دوا دے گا۔ وہ ان کا خیر خواہ بن کر ان کا علاج کرے گا۔ اس طرح کا اعلیٰ سلوک اس کی ڈاکٹری کو ایک مذہبی انسان کی ڈاکٹری بنا دے گا۔
گویا مذہب عملی اعتبار سے مذہبی انسان کا نام ہے۔ اگر واقعہ کسی سماج میں مذہبی انسان ہیں تو ان کے مذہبی عمل سے سماج میں مذہبی ماحول پیدا ہوگا۔ اور اگر ایسے انسان نہ ہوں جو واقعی معنوں مذہبی ہوں تو ایسا سماج مذہبی سماج نہیں بن سکتا، خواہ وہاں مذہبی نعرہ لگانے والوں کی بھیڑ اکٹھا ہو، خواہ وہاں مذہب کے نام پر کتنے ہی ہنگامے جاری ہوں۔
مذہبی تجارت حقیقتاً مذہبی انسان کی تجارت کا دوسرا نام ہے۔ مذہبی انسان کے بغیر وہ تجارت وجود میں نہیں آسکتی جس کو مذہبی تجارت کہا جاسکے۔ اسی طرح اگر مذہبی سیاست کوئی چیز ہو تو وہ بھی مذہبی انسان کی سیاست کا دوسرا نام ہوگی۔ حقیقی مذہبی انسان کے بغیر حقیقی مذہبی سیاست کا کوئی
‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues