مذہب اور سیاست
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۶
وجود نہیں۔
جو لوگ مذہب کی اس حقیقت کو نہیں جانتے وہ "مذہبی حکومت" بنانے کا نعرہ لگاتے ہیں، حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ "مذہبی انسان" بنانے کی کوشش کی جائے۔ "مذہبی حکومت بناؤ" کا نعرہ ایک بے معنی نعرہ ہے جو صرف سماجی جھگڑے اور قومی فساد میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس اگر "مذہبی انسان بناؤ" کا مشن چلایا جائے تو سماج میں جھگڑا گھٹے گا اور فساد ختم ہوگا۔ "مذہبی تجارت"۔ اگر کوئی چیز ہو تو وہ مذہبی انسان کی تجارت کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہوسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی انسان کے بغیر مذہبی تجارت کے کوئی معنی نہیں۔ اسی طرح "مذہبی سیاست" اگر کوئی چیز ہو تو وہ بھی مذہبی انسان کی سیاست کا دوسرا نام ہوگی۔
سچے مذہبی انسان کی روش ہی کسی سیاست کو مذہبی رنگ دیتی ہے۔ اگر سچے مذہبی انسان نہ ہوں تو مذہبی نعرے بازی یا مذہب کے نام پر ہنگامہ آرائی سے کوئی سیاست مذہبی سیاست نہیں بن سکتی، خواہ اس قسم کی کوشش میں ہزاروں سال لگادئے جائیں۔
مذہب اور سیاست یا سیاست اور مذہب کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ سیاست کو مذہب کے لئے استعمال کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ مذہب کو سیاست کے لئے استعمال کیا جائے۔ پہلی صورت مذہب کے مطابق ہے اور انسانیت کے لئے رحمت ہے۔ جب کہ دوسری صورت سراسر مذہب کے خلاف ہے اور انسانیت کے لئے ایک سماجی عذاب سے کم نہیں۔
مذہب کے بارے میں خاص طور پر مشرقی ملکوں میں لوگ بہت حساس ہوتے ہیں۔ اگر مذہب کے نام پر کوئی اشو کھڑا کیا جائے تو وہ فوراً بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس بنا پر خود غرض سیاستداں اپنی لیڈری کو نمایاں کرنے کے لئے اس کو سب سے زیادہ آسان سمجھتے ہیں کہ "مذہب خطرہ میں " جیسا کوئی نعرہ بلند کریں اور لوگوں میں ادھر سے اُدھر تک آگ لگا دیں۔ اس آگ کی روشنی میں لیڈر کا اپنا چہرہ تو خوب روشن ہو جاتا ہے مگر عام انسان اس کی آگ میں جھلس کر رہ جاتے ہیں۔ صحیح سیاست اور غلط سیاست کو ناپنے کا ایک بہت کھلا ہوا معیار ہے۔ جو سیاست محبت کی بنیاد پر اٹھائی جائے وہ سچی سیاست ہے۔ اور جو سیاست نفرت کی بنیاد پر اٹھائی جائے وہ جھوٹی سیاست۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues