The Prophet of Islam: Benefactor of Humanity
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۲۶
شام کو تمام شرکاء کو کابل کے باہر ایک کھلے مقام پر لے جایا گیا۔ یہاں "شہدائے راہ انقلاب" کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ دور تک " اپریل انقلاب" میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی قبریں نظر آرہی تھیں۔ یہاں مخصوص فوجی آداب کے ساتھ "شہدا" کو پھول (Wreath) چڑھایا گیا۔ میرے لئے یہ منظر نیا تھا۔ مجھے کسی شخص کا یہ قول یاد آیا کہ حکومت کے خلاف مسلح اقدام اگر کامیاب نہ ہو تو وہ بغاوت ہے، اگر کامیاب ہو جائے تو وہ انقلاب ہے۔
۲۲ اکتوبر کی صبح کو کانفرنس کا افتتاح ہوا۔ ڈاکٹر نجیب (رئیس جمہوریہ افغانستان) اور دوسرے اعلی حکومتی ذمہ دار اسٹیج پر موجود تھے۔ کارروائی کا آغاز ایک نابینا قاری کی تلاوت سے ہوا۔ انہوں نے سورۂ احزاب کا وہ حصہ پڑھا جس میں یہ آیت ہے: يخفون ولا يخشون الا اللہ۔ میں نے سوچا کہ اگر بالفرض آج کوئییی نئی کتاب اترے اس میں مذکورہ الفاظ ہوں اور ان کولے کر کوئ شخص ایک ایسے اجتماع میں ان کی تلاوت کرنے لگے جہاں وقت کے حکمراں لوگ بیٹھے ہوئے ہوں تو شائد اس کو نکال کر باہر کر دیا جائے گا۔ مگر قاری اس قسم کی آیت قرآن سے پڑھتا ہے تو کسی کے اندر کوئ جنبش نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ نیا پیغمبر اس کو زندہ پیغام کے طور پر پڑھے گا، اور نابینا قاری اس کو صرف ایک روایتی قرأت کے طور پر اس کا ترنم کر رہا ہے۔
۲۲ اکتوبر کی شام سے مقالات کا سلسلہ شروع ہوا جو ۲۳ اکتوبر کی شام تک جاری رہا۔ میں نے جو مقالہ پیش کیا، اس کا عنوان یہ تھا:
The Prophet of Islam: Benefactor of Humanity
یہ مقالہ انشاء اللہ انگریزی الرسالہ میں شائع کر دیا جائے گا۔
۲۲ اکتوبر کو یہاں کے ٹیلی وژن والوں نے انٹرویو لیا۔ اپنے مرکز کے تعارف کے بعد میں نے دو باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ میرے نزدیک اسلام کا مطلب ہے آخرت اور ریینٹڈ لائف ۔ دوسری بات میں نے وہی کہی جو الرسالہ میں بار بار آتی ہے۔ یعنی تصادم کو اوائڈ کرتے ہوئے ممکن دائرہ عمل میں اپنا کام کرنا۔ اس سلسلہ میں میں نے مزید کہا کہ یہ باتیں میں خاص طور پر افغانستان کے پس منظر میں نہیں کہہ رہا ہوں۔ یہ میرا مستقل پیغام ہے جس کی میں پچھلے ۳۰ سال سے برابر تبلیغ کر رہا ہوں۔
یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں غالباً ہندوستان کا اکیلا شخص ہوں جو ملک کے اندر اور ملک کے باہر ہر جگہ ایک
‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues