عجیب تضاد
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۲۵
ہے، وہ ایک ہندو مہاتما دیوراہا بابا ہیں ۔
یہ ورندابن (اتر پردیش) کا واقعہ ہے۔ بابا جی وہاں آبادی سے دور لکڑی کے ایک مچان پر رہتے ہیں ۔ اور اپنے عقیدت مندوں کو آشیرواد دینے کے لیے ان کے سر پر اپنا پاؤں رکھتے ہیں جس آدمی کے سر پر وہ اپنا پاؤں رکھ دیں وہ بہت خوش قسمت آدمی سمجھا جاتا ہے۔ یہ واقعہ علامتی طور پر موجودہ ہندوستان کی تصویر ہے۔ آزادی کے بعد ہندوستان کے لیڈروں نے یہ طے کیا کہ وہ ملک کو جدید اصولوں کے مطابق چلائیں گے ، وہ اس کو ماڈرن ورلڈ کا ایک حصہ بنائیں گے۔ کاغذی طور پر اگرچہ یہ اعلان کر دیا گیا ، مگر یہاں کے تقریباً تمام لیڈر اپنے فکر کے اعتبار سے قدیم تو ہماتی دور میں پڑے رہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ بیک وقت دو سمتوں میں دوڑتے رہے۔ ایک طرف سائنس پسندی اور دوسری طرف تو ہم پرستی۔ دو عملی کی یہی صورت حال ہے جس سے متاثر ہو کر اقبال احمد سہیل نے کہا تھا :
آگے ہیں قدم پیچھے ہے نظر جاتا ہے کہاں جاتے ہیں کدھر منہ میں ہے یہاں خود سمت سفر نیرنگ زمانہ کیا کہئے جلد ہی ملکی آزادی پر پچاس سال پورے ہو جائیں گے مگر طویل مدت اور ہر قسم کے وسائل کے باوجود ہندوستان ابھی تک ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا ہونے کے قابل نہ ہو سکا۔ اس کی غالباً سب سے بڑی وجہ یہی ہے ۔ ہندوستان کے لیڈر بیک وقت دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ وہ ایک کو بھی پکڑ نہیں پاتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues