Al-Risala · March 1989 · page 28

The Prophet of Islam: Benefactor of Humanity

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۲۸

دعوت دی جس کی دعوت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔ مگر دونوں میں جو فرق ہے وہ یہ کہ پچھلے پیغمبروں کے زمانہ میں توحید کی دعوت صرف فکری اور نظریاتی مرحلہ میں رہی، وہ عملی انقلاب کے مرحلہ تک نہیں پہنچی۔ چنانچہ توحید کی تبلیغ کے باوجود توحید کے عملی نتائج ظہور میں نہیں آ رہے تھے۔ پیغمبر اسلام نے دعوت توحید کو انقلاب توحید تک پہنچا دیا۔ جب ایسا ہو تو انسان کو اس کے نتائج ملنا شروع ہوگئے جن سے وہ اب تک محروم تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام اور دوسرے پیغمبروں کے درمیان جو فرق ہے وہ نفس دین کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ دین کے اظہار کے اعتبار سے ہے۔

ایک صاحب نے سیاسی انداز میں تقریر کی۔ ان کی تقریر کا خاص نشانہ امریکہیکہ تھا۔ اپنی پرجوش تقریر میں وہ ظالم امریکہ، مردود امریکہ اور شیطان امریکہ جیسے الفاظ بے تکلف استعمال کر رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل جس کے وسیع ہال میں یہ تقریر ہو رہی ہے، وہ ایک امریکی کمپنی کا بنوایا ہوا ہے اور اسی کی ملکیت ہے۔ افغانستان کے پاس سارے ملک میں دوسرا کوئی ہوٹل یا ہال نہیں جہاں ایک بین اقوامی سطح کی سیرت کانفرنس شایان شان طور پر کی جاسکے۔ ایسی حالت میں امریکہ کو برا بھلا کہنا کس قدر مضحکہ خیز ہے۔ جس امریکہ کے نفوذ کا یہ حال ہو کہ اس کو گالی دینے میں جو پیسہ خرچ ہو وہ بھی اسی کی جیب میں جائے، ایسے امر کا مقابلہ عمل کے اسٹیج پر کیا جاسکتا ہے نہ کہ کسی قسم کے لفظی اسٹیج پر۔

ایک بڑے کمرہ میں افغانستان کی اسلامی مطبوعات کی نمائش کی گئی تھی۔ بڑی تعداد میں مختلف موضوعات پر کتابیں موجود تھیں۔ ایک کتاب کا نام تھا: نقش علماء در دعوت به صلح۔ اس کے "نویسندہ" ڈاکٹر عبدالغفور باہر تھے۔ اس کتاب کا موضوع تھا: صلح کی دعوت میں علماء کا رول۔ اس کو عربی میں کہہ سکتے ہیں: دور العلماء في الدعوة الى السلم۔

اس کتاب کا پہلا جملہ یہ تھا کہ یہ واضح بات ہے کہ اسلام کی دعوت عالمی دعوت ہے اور دنیا میں رحمت لانے کے لئے ہے (واضح است که دعوت اسلام دعوت جہانی و تامین رحمت است)

یہاں مختلف ملکوں کے لوگ آئے ہوئے تھے۔ جو لوگ عربی یا انگریزی زبان جانتے تھے، ان سے گفتگو کرنا آسان تھا۔ مگر جو لوگ صرف اپنی مقامی زبان جانتے تھے، ان سے براہ راست ربط قائم نہیں جاسکتا تھا۔ ایک موقع پر میرے ساتھ اسی قسم کی "بے بسی" پیش آئی۔ اس تجربہ کے موقع پر بے اختیار مجھے آخرت کی دنیا یاد آگئی۔ میری زبان سے نکلا : آخرت کی دنیا کیسی عجیب دنیا ہوگی۔ وہاں تمام انسانوں سے ایک زبان میں کلام

‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues

Printed page