The Prophet of Islam: Benefactor of Humanity
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۲۹
کرنا ممکن ہو گا۔ وہاں تمام انسانوں کی سطح ایک ہو جائے گی۔ وہاں ہر آدمی حقیقت کو ماننے پر مجبور ہوگا۔ وہاں کسی کے لئے ممکن نہ ہوگا کہ وہ دھواں بکھیر کر فضا کو آلودہ کرے۔ وہاں کسی کو یہ قدرت نہ ہوگی کہ وہ ظلم اور جبر کے ذریعہ اقتدار پر قابض ہو جائے اور پھر اپنی ذات کو بچانے کی خاطر سارے معاملات کو تہس نہس کر ڈالے۔ وہاں کسی کو یہ موقع نہ ہوگا کہ جھوٹ اور استحصال کی بنیاد پر لیڈر بن جائے۔
آخرت کی دنیا میں ہر چیز اپنی اصل تخلیقی حالت پر ہوگی۔ وہاں ہر آدمی کو اس حد پر ٹھہرنے کے لئے مجبور کر دیا جائے گا جو اس کی واقعی حد ہے ۔ وہاں ہر قسم کا مصنوعی فرق مٹ چکا ہوگا۔ موجودہ دنیا اندر انسانی دنیا ہے تو وہ ربانی دنیا ہوگی۔ کیسی عجیب ہوگی یہ آنے دنیا، اور کیکے خوش نصیب ہوں گے وہ لوگ جو اس معیاری دنیا میں آبادکاری کے لئے منتخب کئے جائیں۔
کانفرنس کی کارروائی کل شام کو ختم ہوگئی۔ اگلی صبح کو میں کابل سے ہوٹل انٹر کانٹینٹل (روم ۳۲۸) میں میز کے سامنے بیٹھا ہوں۔ سورج کی روشنی دیواری شیشہ سے گزر کر کمرہ میں آرہی ہے ۔ ذہن میں موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا نقشہ گھوم رہا ہے۔ اچانک مجھے فارسی کا یہ شعر یاد آیا:
خانه شرع خراب است که ارباب صلاح در عمارت گری گنبد اسلاف خود اند میں نے سوچا کہ موجودہ زمانہ کا نصف حصہ اگر " گنبد اسلاف" کی تعمیر میں مشغول ہے تو بقیہ نصف حصہ " گنبد خویش" کی تعمیر میں ۔ جہاں تک " خانہ شریعت کی تعمیر کا تعلق ہے، اس سے حقیقی طور پر کسی کو بھی کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ سوچتے ہوئے ایک تاثر طاری ہوا جو ان لفظوں میں ڈھل گیا : اپنے کو اسلامی ظاہر کرنے کے لئے ہر شخص دوڑ رہا ہے ، مگر اپنے کو اسلامی بنانے سے کسی کو دل چسپی نہیں۔ اسلام کا جھنڈا بلند کرنے کے لئے ہر آدمی بے قرار ہے، مگر اسلام کی خاطر اپنا جھنڈا گرانے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ اسلام کے گنبد پر ہر شخص کھڑا ہونا چاہتا ہے، مگر اسلام کی بنیاد میں دفن ہونا کسی کو گوارا نہیں ـــــــــ کیسا عجیب ہے وہ اسلام جو سب کچھ ہو مگر اسلام ہی نہ ہو۔
ایک افغانی نوجوان جس نے بی اے کے مرحلہ تک تعلیم حاصل کی ہے ، اس سے میں نے پوچھا کہ افغانستان میں ایسے لوگ کتنے ہوں گے جنہوں نے بی اے کیا ہو۔ اس کا جواب تھا کہ سو میں ایک ۔ یہی افغانی قوم کی اصل کمزوری ہے ۔ وہ بے حد بہادر قوم ہیں۔ مگر بہادری میں وہ جتنا آگے ہیں ، تعلیم میں وہ اتنا ہی پیچھے ہیں ۔ وہ لوگ جن کو" افغانی مجاہدین " کہا جاتا ہے ، وہ ایک درجن تنظیموں میں بٹے ہوئے ہیں ،
‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues