تعداد کی نابرابری
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۷
اسلام میں جائز نہیں۔ اسلامی شریعت میں نکاح کے لیے عورت کی رضامندی ہر حال میں ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس طرح عملی طور پر دیکھیے تو قرآن کے مذکورہ حکم کی تعمیل صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ سماج میں وہ مخصوص صورت حال پائی جائے جو احد کی جنگ کے بعد مدینہ میں پائی جارہی تھی، یعنی مردوں اور عورتوں کی تعداد میں نابرابری۔ اگر یہ صورت حال نہ پائی جارہی ہو تو قرآن کا حکم عملاً ناقابل نفاذ ہوگا۔ مگر انسانی سماج اور انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قدیم مدینہ کی صورت حال محض وقتی صورت حال نہ تھی، یہ ایک ایسی صورت حال تھی جو اکثر حالات میں زمین پر موجود رہتی ہے۔ مذکورہ ہنگامی حالت ہی ہماری دنیا کی عمومی حالت ہے۔ یہ قرآن کے مصنف کے عالم الغیب ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے اپنی کتاب میں ایک ایسا حکم دیا جو بظاہر ایک ہنگامی حکم تھا، مگر وہ ہماری دنیا کے لیے ایک ابدی حکم بن گیا۔
تعداد کی نابرابری
اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ باعتبار پیدائش عورت اور مرد کی تعداد تقریباًاً یکساں ہوتی ہے۔ یعنی جتنے بچے، تقریب اتنی ہی بچیاں۔ مگر شرح اموات (Mortality) کے جائزہ سے معلوم ہوا ہے کہ عورتوں کے مقابلہ میں مردوں کے درمیان موت کی شرح زیادہ ہے۔ یہ فرق بچپن سے لے کر آخر عمر تک جاری رہتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) کے مطابق، عمومی طور پر، موت کا خطرہ ہر کے ہر مرحلہ میں، عورتوں کے لیے کم پایا گیا ہے اور مردوں کے لیے زیادہ: In general, the risk of death at any given age is less for females than for males (VII/37). اکثر حالات میں سماج کے اندر عورتوں کی تعداد کا زیادہ ہونا اور مردوں کی تعداد کا کم ہونا مختلف اسباب سے ہوتا ہے۔ مثلاً جب جنگ ہوتی ہے تو اس میں زیادہ تر صرف مرد مارے جاتے ہیں۔ پہلی عالمی جنگ (۱۹۱۸-۱۹۱۴) میں آٹھ ملین سے زیادہ فوجی مارے گئے۔ شہری لوگ جو اس جنگ میں ہلاک ہوئے وہ اس کے علاوہ ہیں۔ یہ زیادہ تر مرد تھے۔ دوسری عالمی جنگ (۱۹۴۵-۱۹۳۹) میں ساڑھے چھ کروڑ آدمی ہلاک ہوئے یا جسمانی طور پر ناکارہ ہوگئے ۔ یہ سارے لوگ زیادہ تر مرد تھے۔ عراق۔ ایران
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues