Al-Risala · April 1989 · page 14

Wanted an evening guest

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۱۴

کرنے کی ایک وجہ جنسی تناسب میں عورتوں کی زیادتی (Surplus of women) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو قومیں تعدد ازدواج کی اجازت دیتی ہیں یا اس کو پسند کرتی ہیں، ان میں بھی مردوں کی بہت بڑی اکثریت فاضل عورتوں کی محدود تعداد کی وجہ سے ایک ہی بیوی پر اکتفا کرتی ہے : Among most peoples who permit or prefer it, the large majority of men live in monogamy because of the limited number of women (VIII/97). اسلام میں ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت بطور آئیڈیل نہیں ہے۔ یہ در حقیقت ایک عملی ضرورت (Practical reason) کی وجہ سے ہے، اور وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آبادی میں مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے ۔ اس زیادہ تعداد کے باعزت حل کے لیے تعدد ازدواج کا اصول مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ایک عملی حل ہے نہ کہ نظریاتی آئیڈیل ۔ خلاصہ کلام اوپر جو بحث کی گئی، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابتدائی پیدائش کے اعتبار سے مرد اور عورت اگر چہ یکساں تعداد میں پیدا ہوتے ہیں۔ مگر بعد کو پیش آنے والے مختلف اسباب کی بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معاشرہ میں مردوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے اور عورتوں کی تعداد زیادہ ۔ سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہو۔ جنسی نامرابری کی ناگزیر صورت حال میں دونوں جنسوں کے درمیان صحت مند تعلق کس طرح قائم کیا جائے ۔

یک زوجگی (ایک مرد، ایک عورت) کے اصول نکاح پر عمل کرنے کی صورت میں لاکھوں کی تعداد میں ایسی عورتیں باقی رہتی ہیں جن کے لیے معاشرہ میں ایسے مرد موجود نہ ہوں جن سے وہ نکاح کا تعلق قائم کر کے باعزت زندگی گزار سکیں۔ یک زوجگی کا مطلق اصول کسی کو بظاہر خوشنما نظر آسکتا ہے، مگر واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں وہ پوری طرح قابل عمل نہیں۔ گویا ہمارے لیے انتخاب (Choice) ایک زوجہ اور متعدد زوجہ کے درمیان نہیں ہے۔ بلکہ خود متعدد زوجہ کی ایک قسم اور دوسری قسم کے درمیان ہے۔

اب ایک صورت یہ ہے کہ یہ "فاضل" عورتیں جنسی آوارگی یا معاشرتی بربادی کے لیے چھوڑ دی جائیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے ایسے مردوں کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page