Wanted an evening guest
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۱۳
کہ تعدد ازدواج کو اختیار کیا جائے یا نہیں ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آبادی میں عورتوں کی غیر مناسب تعداد کو چھپانے کے لیے قانونی تعدد ازدواج کا طریقہ اختیار کیا جائے یا غیر قانونی تعدد ازدواج کا۔ اسلامی طریقہ اس کے بعد وہ طریقہ ہے جو اسلامی شریعت میں اس مسئلہ کے حل کے لیے بتایا گیا ہے۔ یعنی مخصوص شرائط کے ساتھ کچھ مردوں کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت۔ تعدد ازدواج کا یہ اصول جو اسلامی شریعت میں مقرر کیا گیا ہے ، وہ دراصل عورتوں کو مذکورہ بالا قسم کے بھیانک انجام سے بچانے کے لیے ہے۔ بظاہر اگر چہ یہ ایک عام حکم ہے ، لیکن اگر اس حقیقت کو سامنے رکھیے کہ عملی طور پر کوئی عورت کسی مرد کی دوسری یا تیسری بیوی بننے پر ہنگامی حالات ہی میں راضی ہو سکتی ہے نہ کہ معمول کے حالات میں، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ حکم دراصل ایک سماجی مسئلہ کے حل کے طور پر وضع کیا گیا ہے۔ وہ فاضل عورتوں کو جنسی آوارگی سے بچا کر معقول اور مستحکم خاندانی زندگی گزارنے کا ایک انتظام ہے۔ بالفاظ دیگر یہ یک زوجگی کے مقابلہ میں تعدد ازدواج کو اختیار کرنے کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ تعدد ازدواج اور جنسی بربادی کے درمیان انتخاب کا مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں تعدد ازدواج کو اختیار کرنا ہے۔
تعدد ازدواج کے حکم کو اگر مجرد طور پر دیکھا جائے تو وہ ایک ایسا حکم معلوم ہوگا جو مردوں کی موافقت میں بنایا گیا ہو۔ لیکن اگر اس کو سماج کی عملی صورت حال کے اعتبار سے دیکھیے تو وہ خود عورتوں کی موافقت میں ہے ۔ وہ عورتوں کے مسئلہ کا ایک زیادہ معقول اور فطری بندوبست (Arrangement) ہے ، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔
اسلام میں تعدد ازدواج کی اجازت مردوں کی جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک مسئلہ کو حل کرنے کی عملی تدبیر ہے۔ مردوں کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کرنا اسی وقت ممکن ہوگا جب کہ آبادی میں مردوں کے مقابلہ میں عورتیں زیادہ تعداد میں پائی جارہی ہوں۔ اگر عورتوں کی تعداد نسبتاً زیادہ نہ ہو تو اس حکم پر عمل کرنا سرے سے ممکن نہ ہوگا۔ پھر کیا اسلام مردوں کی خواہش کی تکمیل کے لیے ایک ایسا اصول بتا سکتا ہے جو سرے سے قابل حصول اور قابل عمل ہی نہ ہو۔ انسائیکلوپیڈیا برطانیہ کا (۱۹۸۱) نے بجا طور پر لکھا ہے کہ تعدد ازدواج کے اصول کو اختیار
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues