Al-Risala · April 1989 · page 16

Wanted an evening guest

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۱۶

ایک سفر

صنعاء (یمن) جنوبی عرب کا ایک تاریخی شہر ہے، جو دنیا کی قدیم ترین آبادیوں میں شمار ہوتا ہے۔ قدیم زمانہ میں، وہ اپنی مختلف خصوصیات کی بنا پر ایک قابل دید شہر سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ ایک عرب شاعر کا شعر ہے کہ صنعاء ضرور جانا چاہیے، خواہ اس کے لیے کتنا ہی لمبا سفر کرنا پڑے: لابُدَّ من صنعاء وان طال السفر صنعاء میں ۲۹ اکتوبر - ۲ نومبر ۱۹۸۸ء کو ایک بین الاقوامی اسلامی کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کا اہتمام یمن کی وزارت اوقاف نے کیا تھا۔ کانفرنس کی دعوت پر اس میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ ذیل میں اس سفر کی روداد درج کی جاتی ہے۔

بیرونی سفر میں سب سے پہلا مرحلہ ویزا کا ہوتا ہے۔ میرے پاسپورٹ پر یمن کا ویزا لگ کر آیا تو معلوم ہوا کہ صفحات کے اعتبار سے یہ اس کا آخری ویزا تھا۔ اب اس پاسپورٹ میں مزید اندراج کی گنجائش نہیں ۔ گویا با اعتبار ضخامت وہ اکتوبر ۱۹۸۸ء میں ختم ہو گیا، جب کہ با اعتبار مدت اس کی تاریخ فروری ۱۹۸۹ء تک باقی تھی ۔ اسی طرح زندگی میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے حوصلے زیادہ ہوتے ہیں، مگر وسائل اس کی نسبت سے کم ہوتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ وسائل کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے لیے زندگی کا راستہ نکالے۔ پاسپورٹ کی تاریخ زیادہ ہو تب بھی وہ اس وقت سفر کے لیے بیکار ہے جب کہ اس کے صفحات کی مقدار ختم ہوگئی ہو۔

۳۰ اکتوبر ۱۹۸۸ء کی شام کو ۸ بجے گھر سے روانگی ہوئی ۔ راستہ میں ایک تجربہ گزرا ۔ اس کے بعد آجکل کے معاشرہ کے بارہ میں سوچتے ہوئے میری زبان سے نکلا: آہ، کوئی آدمی آدمی نہیں، ہر آدمی غیر آدمی ہے۔ ایر پورٹ پہنچ کر اندر داخل ہوا تو ایر پورٹ کے عملہ کے دو آدمی اپنے افسر کے کسی حکم کے بارہ میں آپس میں باتیں کر رہے تھے ۔ ایک نے کہا " پھر کیا پرابلم ہے" دوسرا شخص بولا: " پرابلم کیا ہے، جو افسر کہے گا وہی کرنا ہوگا"

میں نے سوچا کہ انسان اس بات کو جانتا ہے کہ اس کو افسر کے کہے پر چلنا ہے ۔ مگر انسان اس بات کو نہیں جانتا کہ اس کو خدا کے کہے پر چلنا ہے۔ آج کا انسان خدا کی ماتحتی قبول کرنے کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page