Wanted an evening guest
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۱۷
لیے تیار نہیں ۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی نہیں جو خدا کا جھنڈا اٹھانے ہی کو اپنا مشغلہ حیات بنائے ہوئے ہیں۔ افسر کے معاملہ میں انسان کا حال یہ ہے کہ "پرابلم" ہو تب بھی وہ اس کی اطاعت کرتا ہے مگر خدا کے معاملہ میں صورت حال اس کے برعکس ہے ــــــــ اگر پرابلم نہ ہو تو وہ خدا کے حکم کو مانے گا ۔ اور اگر پرابلم پیش آجائے تو وہ خدا کے حکم کو ماننے سے انکار کر دے گا ۔ دہلی سے کراچی تک کا سفر پی آئی اے کی فلائٹ ۳۴۲ کے ذریعہ ہوا۔ جہاز کے کیپٹن ضیاء الاسلام تھے۔ پی آئی اے کے جہاز کی صفائی اور اس کا انتظامی معیار انڈین ایئرلائنس سے بہتر نظر آیا۔ پی آئی اے کے میگزین (ہم سفر) کے سر ورق پر عالمی معیار کے مطابق (Your personal copy) لکھا ہوا تھا۔ جب کہ انڈین ایرلائنس کے میگزین نمسکار پر اس قسم کا اندراج نہیں ہوتا ۔ البتہ ایک چیز دونوں میں مشترک تھی۔ نمسکار میں انگریزی کے ساتھ ہندی مضامین کا حصہ ہوتا ہے ۔ اسی طرح ہم سفر میں انگریزی کے ساتھ اردو کا ۔ مگر دونوں میں انگریزی زبان کا حصہ زیادہ تھا اور اپنی قومی زبان کا حصہ اس کے مقابلہ میں کم ۔ دونوں ملک ایک دوسرے کی برتری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ مگر عین اسی وقت وہ بیرونی تہذیب کی برتری کو فخر کے ساتھ قبول کیے ہوئے ہیں ۔
جہاز اپنے ٹھیک وقت پر ۱۰ بج کر ۳۰ منٹ پر روانہ ہوا ۔ تاہم اس کی بیشتر سیٹیں خالی تھیں ۔ اس قسم کے مسافر جہازوں کو تجارتی پرواز ( (کمر شیل فلائٹ) کہا جاتا ہے۔ مگر دنیا بھر میں اڑنے والے جہازوں کی بہت بڑی تعداد عملاً نان کمرشیل فلائٹ ہوتی ہے۔ یہ دراصل ان پروازوں کا بالواسطہ فائدہ ہے جس کی وجہ سے انھیں جاری رکھا گیا ہے ۔ اس دنیا میں اکثر کسی کام کو اس کے بالواسطہ فائدے کی خاطر کرنا پڑتا ہے ، خواہ بظاہر اس سے کوئی براہِ راست فائدہ حاصل نہ ہو رہا ہو۔
کراچی سے صنعاء کا سفر یمن ایئر لائنس کی فلائٹ ۵۵۷ کے ذریعہ ہوا۔ راستہ میں خلیج ٹائمز (۳۰ اکتوبر ۱۹۸۸) پڑھنے کا موقع ملا ۔ یہ انگریزی روزنامہ دوبئی سے نکلتا ہے۔ اس میں ایک ہندوستانی مسلمان (مقیم راس الخیمہ) کا مضمون تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا مسئلہ قیادت کے فقدان (Lack of leadership) کا مسئلہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues