Wanted an evening guest
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۲۷
رخ پر چل پڑی۔ موجودہ زمانہ میں ہر جگہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ کام کے نام سے صرف ایک چیز کو جانتے ہیں اور وہ مقابلہ اعداد ہے۔ دعوت اعداد کی اہمیت نہ ان کے اصاغر کو معلوم ہے اور نہ ان کے اکابر کو۔
کانفرنس میں زیادہ تر انھیں امور پر بحث ہوئی جن کو ہندوستان میں "مسائل ملت" کہا جاتا ہے۔ اس کے ایک اجلاس میں کسی موضوع پر مشاورتی بحث ہورہی تھی۔ ہر آدمی نیا نیا نکتہ نکال کر بحث کو لمبا کر رہا تھا۔ صدر جلسہ نے اپنی طرف سے ایک آخری تجویز پیش کی اور رد عمل کا انتظار کیے بغیر فوراً کہا : اذلم يكن هنالك اعتراض فيعتبران هناك موافقة (اگر کوئی اعتراض نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر اتفاق ہے)، یہ کہہ کر کارروائی آگے بڑھادی۔ مشاورتی مجالس میں یہی طریقہ درست ہے۔ ہر شخص جس نے اس طرح کی مجالس میں شرکت کی ہے، وہ جانتا ہے کہ لوگ اتنی زیادہ بحثیں نکالتے ہیں کہ ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ یہ بات کسی خاتمہ پر پہونچنے والی نہیں۔ ایسی حالت میں بات کو ختم کرنے کی صورت وہی ہے جس کی ایک مثال مذکورہ واقعہ میں نظر آتی ہے۔
یہاں کے اجتماع میں اور دوسری اسلامی کانفرنسوں میں شرکت کے بعد میں اس رائے پر پہنچا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں پر "خطرات" کا ذہن سوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں "مواقع" دکھائی نہیں دیتے ۔ اور بلا شبہ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ بے شمار سرگرمیوں کے باوجود اب تک احیاء اسلام اور تعمیر ملت کا عمل ان کے درمیان شروع نہ ہوسکا۔ اس کا منزل پر پہونچنا تو در کنار۔
امریکہ میں ایک شخص نے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
گھانا میں ایک شخص نے نیا مذہب نکالا ہے جس کا مقصد تمام مذہبی کتابوں (بشمول قرآن) کو جلانا ہے ۔
انگلینڈ میں ایک شخص نے مضمون شائع کیا ہے جس میں پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی گئی ہے ۔
فلاں مسلم حکمران مسلمان نہیں ہے ، وہ یہودی ہے ، وغیرہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues