Al-Risala · April 1989 · page 26

Wanted an evening guest

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۲۶

۲۱ اکتوبر کی دوپہر کو عبد اللہ الصالح رئیس جمہوریہ یمن) سے یہاں کے ”قصر“ میں ملاقات ہوئی ۔ یہ اجتماعی ملاقات تھی۔ فرد آفردا ملاقات کے بعد رئیس نے ایک مختصر خطاب کیا۔ اس میں انہوں نے اس تصور کو پسند کیا کہ اسلام کو ایک دعوتی قوت کی حیثیت سے اٹھایا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت بہت سی اسلامی جماعتیں اسلام کے نام پر سیاسی جھگڑوں میں مشغول ہیں ۔ اس کے بجائے اگر وہ دعوتی محاذ پر کام کریں تو یہ ان کی صلاحیتوں کا زیادہ بہتر استعمال ہو گا۔

۳۱ اکتوبر کی شام کو سبا ہوٹل (Taj Sheba Hotel) میں ایک خصوصی میٹنگ ہوئی۔ اس میں کانفرنس کے بیرونی شرکار اور یمن کے مقامی علماء جمع ہوئے ۔ کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا۔ اس کے بعد قاضی علی العثمان (وزیر الاوقاف) نے ابتدائی خطاب کیا۔ وہ خالص عالمانہ حلیہ میں تھے۔ اس موقع پر وزارت اوقاف کے اکثر ذمہ داران موجود تھے۔ معلوم ہوا کہ وزیر، نائب وزیر اور دوسرے اکثر تعلیم یافتہ افراد میری کتابیں پڑھے ہوئے ہیں۔ لوگوں کا شدید اصرار تھا کہ میں کانفرنس کے بعد مزید ٹھہروں تاکہ یہاں کی یونیورسٹی اور دوسرے اداروں میں میرے محاضرات رکھوائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو جب معلوم ہوگا کہ آپ یہاں آئے تو ان کو سخت شکایت ہوگی کہ آپ سے ملاقات اور محاضرہ کا پروگرام کیوں نہیں رکھوایا گیا : مگر وقت کی کمی کے باعث میں نے عذر کر دیا۔ سبا ہوٹل کے جس ہال میں اس ملاقات کا انتظام کیا گیا تھا، وہاں دیوار پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا: الدعوة الى الله : رسالة الانبياء وميراث العلماء ونهج الصالحين اس نشست میں تقریباً ۵۰ آدمی شریک ہوئے ۔ مگر لوگوں کی گفتگوؤں سے ایسا معلوم ہوا کہ کسی پر پوری طرح یہ واضح نہیں ہے کہ ”دعوت الی اللہ کیا ہے۔ اکثر لوگ دعوت سے آغاز کر کے مبشرین اور مستشرقین اور صہیونیون کے پیدا کردہ مسائل پر اظہار خیال کرنا شروع کر دیتے ۔ حالاں کہ یہ سب دفاعی مسائل ہیں نہ کہ دعوتی مسائل ۔

ایک صاحب نے ان الفاظ کے ساتھ اپنی تقریر شروع کی : هل لنا ان ننسائـل ماهو

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page