Wanted an evening guest
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۲۹
کو بند کے ذریعہ مارب کے مقام پر جمع کیا جاتا تھا اور اس سے سینچائی کا کام لیا جاتا تھا۔ اس تدبیر نے اس خشک علاقہ کو سرسبز و شاداب بنا دیا تھا۔ قدیم سد مارب کے آثار اب بھی نمایاں طور پر موجود ہیں ۔
قدیم بند ہی کے مقام پر اب یہاں دوبارہ جدید طرز کا ڈیم بنایا گیا ہے۔ ڈیم کے انچارج نے تعارف کراتے ہوئے کہا کہ شیخ زاید (عرب امارات) نے یہاں کا دورہ کیا تو ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس کو دوبارہ بنایا جائے۔ سب سے پہلے انہیں نے اس تصور کا آغاز کیا (هو الذي بدأ هذه الفكرة )
ہم لوگوں کا قافلہ تقریباً دو گھنٹہ میں سد مارب کے مقام پر پہنچا۔ تعارف کے دوران بتایا گیا کہ اس ڈیم کو دوبارہ بنانے کے دو مقصد ہیں۔ ایک مقصد اقتصادی ہے۔ یعنی اس علاقہ کی آبپاشی کے لیے پانی حاصل کرنا۔ دوسرا مقصد اسلامی ہے۔ سد مارب کا ذکر خود قرآن میں آیا ہے۔ یہ ڈیم اس علاقہ کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھے گا (يُحيي ذكرى هذه المنطقة) یہ ڈیم گویا انسان کے لیے اس بات کا نشان ہے کہ خدا کے شکر گزار بنو تو تمہارے لیے سب کچھ ہے اور ناشکری کرو گے تو اس کا نتیجہ دوبارہ وہی ہوگا جو قوم سبا کے ساتھ پیش آیا۔
موجودہ ڈیم ۷۰۰ میٹر لمبا اور ۴۰ میٹر اونچا ہے۔ قدیم سد مارب تقریباً ۸۰ میٹر اونچا تھا۔ جہاں یہ ڈیم بنایا گیا ہے اس کو عام طور پر وادی سبا کہا جاتا ہے۔ سابق سد مارب تین ہزار سال پہلے بنا تھا۔ یہ پورا کا پورا مضبوط پتھروں کا تھا۔ اس کے آثار اب بھی جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں کثیر تعداد میں کتبے موجود ہیں۔ یہ کتبے حمیری زبان میں ہیں۔ یہ پورا ڈیم شیخ زاید (عرب امارات) کے تعاون سے بن رہا ہے۔ اس کی لاگت ایک سو ملین ڈالر ہے۔ تحقیق اور ریسرچ کا سارا کام جرمن ماہرین نے کیا ہے۔ وہ پچھلے دس سال سے اس کام میں مشغول ہیں۔
سد مارب دیکھنے کے بعد ہم لوگ اس کھنڈر کو دیکھنے کے لیے گیے جو معبد شمس (Sun temple) کے نام سے مشہور ہے۔ یہ ملکہ بلقیس اور اس کی قوم سبا کا عبادت خانہ تھا۔ اب بھی اس کے کھنڈر صحرا میں موجود ہیں۔ اس کے کئی ستون اب بھی کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کا ایک ایک پتھر ۵۰ ٹن کا ہے۔ یہ معبد گول انداز میں بنا ہوا تھا۔ اس کی کھدائی میں کافی کتبات اور سامان نکلے جو اب لندن کے میوزیم میں موجود ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues