Al-Risala · April 1989 · page 30

Wanted an evening guest

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۳۰

ہیں۔ یہ معبد تقریبا تین ہزار سال پرانا ہے۔

ہم وہاں دوپہر کے وقت پہنچے۔ سورج پوری تابناکی کے ساتھ چمک رہا تھا۔ اور اس کے نیچے معبد شمس آخری حد تک کھنڈر کا نمونہ بنا ہوا تھا۔ اس ماحول میں ایسا معلوم ہوا جیسے سورج زبان حال سے کہہ رہا ہو کہ میں تمہارا خدا نہیں۔ اگر میں خدا ہوتا تو میں اپنے عبادت خانہ کو کھنڈر ہونے سے بچالیتا۔

مزید آگے بڑھے تو وہ جگہ تھی جس کو "عرش بلقیس" کہا جاتا ہے۔ یہ ملکہ سبا (بلقیس) کا محل تھا جو معبد شمس کے قریب واقع تھا۔ اس کے پانچ بڑے بڑے ستون اب بھی سیدھے کھڑے ہوئے ہوئے ہیں۔ ہر ستون ۱۲ میٹر لمبا ہے۔ ان ستونوں کے اوپر کیسی لڑکے چڑھنے اور اترنے کا ایک عجیب و غریب تماشا دکھارہے تھے۔ اس منظر کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ شہر کی اونچی عمارتوں میں اوپر چڑھنے کے لیے جو لفٹ لگی ہوئی ہے وہ اوٹس (OTIS) کی ہے جو ایک مغربی کمپنی ہے۔ روایتی صعود میں مسلمان خود استاد ہیں مگر مشینی صعود کے لیے انہیں مغرب کی شاگردی کرنی پڑتی ہے۔ مسلمان روایتی دور میں سب سے آگے تھے، مگر سائنسی دور میں وہ سب سے پیچھے ہو گئے۔

یہیں پر قدیم شہر مارب کے کھنڈرات ہیں جو دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہاں ایک عمارت ہے جو "مسجد سلیمان" کے نام سے مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان نے یہاں نماز پڑھی اور پھر اسی جگہ مسجد تعمیر کی گئی۔ تاہم اس کا تاریخی ثبوت موجود نہیں ہے۔ یہ مسجد ایک بہت بڑے ہال کی صورت میں ہے جو کہ تقریبا ۳۰ ستونوں پر قائم ہے۔ پورا مارب شہر ایک بلندی پر کھنڈرات کی صورت میں نظر آتا ہے اور عبرت کا عجیب نمونہ ہے۔

مارب شہر مشہور "قیرواں روڈ" پر واقع تھا۔ یہ شاہراہ بحر عرب کو بحر روم سے ملاتی تھی۔ اس پر ہزاروں کی تعداد میں اونٹوں کے تجارتی قافلے گزرتے تھے۔ ان تاجروں سے ٹیکس وصول کیے جاتے تھے اور وہ حکومت سبا کی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ تھا ۔ قدیم زمانہ کی تجارتی شاہراہ اب صرف سیاحوں کی شاہراہ بن کر رہ گئی ہے۔

قدیم مارب کے پاس ہی جدید مارب آباد ہے۔ طرز تعمیر کے اعتبار سے وہ بھی قدیم انداز کا بنا ہوا ہے۔ یہاں ایک " ہوٹل بلقیس" ہے جو غالباً سیاحوں کی ضرورت کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ گویا

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page