زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۳۶
ہم لاجئون فی ھذا العالم۔ اسی طرح انگریزی رپورٹ میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : This matter was emphasized as one third of the Muslims are refugees in this world. اس کا مطلب یہ تھا کہ دنیا بھر میں جو مسلمان ہیں ان کا ایک تہائی حصہ پناہ گزین کے طور پر زندگی گزار رہا ہے ۔ یعنی دنیا کے ایک ارب مسلمانوں میں سے تقریباً ۳۳ کرور۔ ظاہر ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ مذکورہ مقرر نے دراصل یہ کہا تھا کہ عالمی پناہ گزینوں کی جو تعداد ہے ان میں تقریباً ایک تہائی مسلمان پناہ گزین ہیں۔ گویا کہنے والے نے پناہ گزینوں میں تہائی کی بات کہی تھی، مگر رپورٹ مرتب کرنے والوں نے اس کو مسلمانوں کی مجموعی تعداد کا تہائی کر دیا۔ یہ غلطی کی وہ قسم ہے جو موجودہ دنیا میں بہت زیادہ عام ہے۔ اس لیے کسی کے خلاف کوئی بات علم میں آئے تو تحقیق کے بغیر ہرگز اس کو ماننا نہیں چاہیے ۔
یہاں جناب محمد شیر چودھری (پیدائش ۱۹۳۸) سے ملاقات ہوئی۔ وہ پاکستان سے ہجرت کرکے ساؤتھ افریقہ گئے اور اب وہ وہیں رہتے ہیں ۔ انھوں نے اپنا ایک قصہ بتایا ۔ ۱۹۸۶ میں ڈربن کے اورینٹ ہال میں ان کی تقریر ہوئی۔ تقریر کے بعد حاضرین میں سے ایک شخص نے سوال کیا : کیا آپ اس پر مطمئن ہیں کہ واقعی صدر ضیا الحق پاکستان میں اسلام لانا چاہتے ہیں۔ اس کے جواب میں محمد شیر چودھری نے کہا : " میں سمجھتا ہوں صدر ضیاء تو اسلام لانا چاہتے ہیں مگر علماء شاید اسلام نہیں لانا چاہتے "
میں نے کہا کہ ایک لفظی فرق کے ساتھ میں اس جواب سے متفق ہوں ۔ آپ نے کہا کہ علماء اسلام کو لانا نہیں چاہتے ، میں کہوں گا کہ علماء اسلام کو لانے نہیں دیتے ۔ کسی معاشرہ میں اسلام کو لانا ایک تدریجی عمل ہے ۔ اس کے لیے ناقابل برداشت کو برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ جو چیز آج ممکن ہے اس سے آغاز کیا جاتا ہے ، اور جو چیز آج ممکن نہیں ہے ، اس سے اعراض کرنا پڑتا ہے۔ مگر علماء صبر اور اعراض اور تدریج کو نہیں جانتے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ فوراً اسلام کا غلبہ قائم ہوجائے۔ علماء کی یہی تعجیل پاکستان میں اسلام کی تاخیر کا سبب بن رہی رسالہ اپریل ۱۹۸۹
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues