Al-Risala · April 1989 · page 35

زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۳۵

اسی لیے وہ بے کردار ہورہے ہیں۔ مسلمانوں کو اخلاقی اعتبار سے اٹھانے کے لیے بھی ضروری ہے کہ ان کے اندر مقصدی شعور پیدا ا جائے ۔ جب ان کے اندر مقصدی شعور آئے گا تو وہ مقصد کے لیے بھی متحرک ہوں گے اور یہی چیز ان کے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کرنے کا سبب بھی بن جائے گی ۔ اور دعوت ہی بلاشبہ سب سے بڑا اسلامی مقصد ہے۔

سفر کے دوران ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ عربی کی دونوں میں سے کوئی زبان نہیں جانتے تھے ۔ ہم کچھ دیر تک ساتھ رہے مگر قریب ہونے کے باوجود ان سے "ربط" قائم نہ ہوسکا۔ گویا وہی کیفیت تھی کہ :

زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم

اس وقت خیال ہوا کہ نطق اور زبان خدا کی کیسی عجیب نعمتیں ہیں ۔ اگر آدمی کے اندر بولنے کی صلاحیت نہ ہو، یا وہ دوسرے لوگوں کی زبان نہ جانتا ہو، تو انسانی ہجوم کے اندر بھی وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کریگا ۔ انسان کی تمام سرگرمیاں اور اس کی تمام ترقیاں نہایت گہرے طور پر نطق کی صلاحیت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اسی کے ذریعہ ایک انسان دوسرے انسان سے ربط قائم کرتا ہے۔ اسی کے ذریعہ مختلف لوگوں کی تحقیقات دوسروں تک پہنچتی ہیں اور انسانیت کی مجموعی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی کے ذریعہ انسان اپنے دل کی بات سے دوسروں کو باخبر کرتا ہے۔ اس عجیب و غریب نعمت کا احساس اس وقت نہیں ہوتا جب کہ آدمی اپنے ہم زبان لوگوں کے درمیان رہ رہا ہو۔ اس نعمت کا صحیح احساس اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے درمیان پائے جہاں نہ دوسرے لوگ اس کی زبان جانیں اور نہ وہ دوسرے لوگوں کی زبان جانتا ہو۔ ایسے ماحول ہی میں صحیح طور پر احساس ہوتا ہے کہ نطق اور زبان کیسی عجیب خدا کی نعمتیں ہیں۔

ایک صاحب اپنے ملک کے سیاسی حالات کی بنا پر اپنے وطن سے باہر یورپ کے ایک ملک میں رہتے ہیں۔ انھوں نے عالمی پناہ گزینوں کے مسئلہ پر تقریر کی اور کہا کہ ان پناہ گزینوں میں بہت بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے۔ ان کے بارہ میں مسلم ملکوں کو ایک مستقل ادارہ قائم کرنا چاہیے جو ان کی مدد کر سکے ۔ ان کی تقریر کی رپورٹ تیار ہو کر آئی تو عربی یا انگریزی رپورٹ میں درج تھا : وہـتـــد

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page